کرپشن کے مسئلے پر بہت فکر مند ہیں:مہاتیر محمد

اسلام آباد (ہم صفیر نیوز )ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہم کرپشن کے مسئلے پر بہت فکر مند ہیں،دونوں ملکوں کو کرپشن سے نمٹنے کے لیے معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا،آزادی کے وقت ملائیشیا نے فیصلہ کیا تھا ترقی کی منازل طے کریں گے،پاکستان کے ساتھ تجارت میں اضافہ چاہتے ہیں ،تاجروں کے لیے اشتراک کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے،ملائیشیا نے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے،ہمارے کبھی اسرائیل سیکوئی تعلقات نہیں رہے،اسرائیل کے علاوہ کسی سے دشمنی نہیں،ہم یہودیوں کیخلاف نہیں تاہم اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاتیر محمد وہ بات کہہ دیتے ہیں جو دیگر مسلمان لیڈر کہنے سے ڈرتے ہیں۔جمعہ کو پاکستان ملائیشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاتیر محمد نے کہا کہ بزنس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کے شکر گزار ہیں،اس طرح کی کانفرنسز ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ صرف بہتر تعلقات نہیں بلکہ تجارتی اضافہ چاہتے ہیں، تاجروں کے لیے اشتراک کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا، ملائیشیا میں غربت کاخاتمہ صنعتوں کے قائم ہونے سے ہوا۔انہوں نے کہاکہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری سے ملک ترقی کرتے ہیں، ہم نے ملائیشیا میں غیرملکی سرمایہ کاروں کوسرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے۔ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کیلئے آسان مواقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا نے فیصلہ کیا تھا کہ ترقی کی منازل طے کریں گے۔مہاتیر محمد نے کہا کہ ہم نے ملائیشیا کہ ترقی کے لیے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا،ہم نے متعدد 5 سالہ منصوبے طے کیے۔ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا نے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے،ہمارے کبھی اسرائیل سیکوئی تعلقات نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے علاوہ کسی سے دشمنی نہیں،ہم یہودیوں کیخلاف نہیں لیکن اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتے۔مہاتیر محمد نے کہا کہ ملائیشیا کی ترقی کا راز کاروبار کے لیے پرامن اور سازگار ماحول ہے، ہم نے سرمایہ کاروں کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا۔انہوں نے کہاکہ ملائیشین سرمایہ کارپاکستان میں کارسازی کی صنعت میں اشتراک چاہتے ہیں۔ ملائشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جاپان اور کوریا کے لوگوں سے سبق سیکھا اور کام کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کرپشن کے مسئلے پر بہت فکر مند ہیں، جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ملک غریب نہیں ہوتے بلکہ کرپشن ملکوں کو غریب کرتی ہے۔مہاتیر محمد نے کہا کہ جب ملک میں بدعنوانی ہو تو ہر چیز کی قیمت زیادہ ادا کرنا پڑتی ہے، آپ کو کوئی کام کرانے کے لیے زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے، کبھی کبھی رقم چرالی جاتی ہے اور افسران اس میں ملوث ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام ضروری ہے، پچھلے دور حکومت میں ملایشیا کو بد ترین کرپشن کا سامنا رہا، جس سے نمٹنے کے لیے ہم نے اقدامات کیے،ہم دونوں ملکوں کو کرپشن سے نمٹنے کے لیے معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔مہاتیر محمد نے کہا کہ بدعنوائی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت اعزاز کی بات ہے،سرمایہ کاری کیلئے ملک میں امن و استحکام ضروری ہے۔اس سے قبل پاکستان ملائیشیا سرمایہ کاری سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری ڈاکٹر مہاتیر محمد کے قائدانہ کردار کا معترف ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مہاتیر محمد ملائیشیا میں بڑی تبدیلی لائے،ان کی قیادت میں ملائیشیا نے خود کفالت حاصل کی۔عمران خان نے کہا کہ ملائیشیا کی ترقی اسلامی دنیا کے لیے روشن مثال ہے، جن لیڈروں کا ویژن صحیح ہوتا ہے وہ صحیح قدم اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں وزارتی سطح پرمضبوط کمیٹی بنانے کافیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاتیر محمد وہ بات کہہ دیتے ہیں جو دیگر مسلمان لیڈر کہنے سے ڈرتے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ ایسا اس لیے ہے کہ ان میں سے اکثریت لیڈرز نہیں صرف آفس ہولڈرز ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیڈرز وہ ہوتے ہیں جن کا نظریہ ہوتا ہے اور وہ مورل ایشوز پر کھڑے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے دیگر لیڈرز اسٹینڈ نہیں لیتے اور سب کو خوش کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کوبدل کر رکھ دیا، ڈاکٹر مہاتیر محمد ملائیشیا میں بڑی تبدیلی لائے۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی ترقی میں مہاتیر محمد نے نمایاں کردار ادا کیا، 23 مارچ یوم پاکستان پریڈ میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہمان خصوصی ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتیر محمد ن کی قیادت میں ملائیشیا نے خود کفالت حاصل کی اس لیے پاکستان بھی ملائیشین وزیراعظم کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہاکہ وہ ملائیشین تاجروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہیں۔ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات مزید فروغ پائیں گے جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بڑھیں گے۔ اس موقع پر ہارون شریف نے ملائیشین وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کا اہم فورم ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو باہمی طور پر متعارف کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، دنیا میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، ہم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے پاس اس وقت بہترین اور پرعزم قیادت موجود ہے، دونوں ممالک کے درمیان ایم او یوز پر دستخط کرنے کا مقصد باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانا ہے۔ ہمیں چوتھے صنعتی انقلاب کی طرف بڑھنا ہے، پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے کھلا ہے اور یہاں وسیع تر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ ملائیشین تاجروں اور سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس موقع پر ملائیشیا کے کاروباری وفد کے سربراہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشین سرمایہ کار پاکستان میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی ساگا کمپنی پاکستان میں متعارف کروا رہے ہیں۔ آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور پاک ملائیشیا تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وفود کے ارکان کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کے ساتھ ساتھ نئے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Facebook Comments