ملک کو احتجاج کی آڑ میں عدم استحکام سے دو چار نہیں کرنے دینگے، حسن روحانی

تہران(ہم صفیر نیوز) ایران کے صدر حسن روحانی نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حسن روحانی نے کہا کہ ‘ احتجاج عوام کا حق ہے لیکن مظاہروں اور فسادات کے درمیان فرق کیا جانا ضروری ہے، ہمیں معاشرے میں عدم استحکام کی اجازت نہیں دینی چاہیے’۔ایرانی صدر حسن روحانی نے مظاہروں کی وجہ بننے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متنازع اضافے کا دفاع کیا جس سے متعلق ایران کی حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ معیشت کی تنزلی کے باوجود سماجی فلاح بہبود میں مدد دے گا۔انہوں نے کہا کہ ‘ اگر ہم قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتے تو ہمیں لوگوں پر ٹیکس میں اضافہ کرنا ہوگا یا زیادہ تیل برآمد کرنا چاہیے ورنہ ضرورت مند افراد کو ریونیو واپس کرنا اور سبسڈی کم کرنی چاہیے’۔علاوہ ازیں ایران میں مظاہروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے کے بعد انٹرنیٹ 24 گھنٹے سے بند ہیں اور صرف سرکاری اور مقامی خبر ایجنسیوں کے اکانٹس فعال ہیں۔انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ نیٹ بلاکس نے 16 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘ ایران اب ملک گیر انٹرنیٹ شٹ ڈان کے قریب ہے’۔ واضح رہے گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ملک میں جاری مظاہروں کے پیچھے سیاسی مخالفین اور غیرملکی دشمن عناصر ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘کچھ لوگ اس فیصلے سے بلاشبہ پریشان ہیں لیکن تخریب کاری اور بدمعاشی ہمارے لوگوں نے نہیں کی’۔واضح رہے کہ ایران کی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے غیر متوقع فیصلے کے خلاف ملک بھر جاری احتجاج کو چوتھا روز ہے اور اس دوران 2 شہری جاں بحق جبکہ درجنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔#/s#

Facebook Comments