چھتیس گڑھ میں ہندوؤں کا مسیحیوں پر حملہ ، مقدس کتاب بائبل کو پھاڑ دیا

نئی دہلی(ہم صفیر نیوز)چھتیس گڑھ میں اقلیتی مسیحیوں کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مقدس کتاب بائبل کو پھاڑ دیا گیا، تامل ناڈو میں انہیں ایک مندر میں لے جا کر بھگوان کی پرستش پر مجبور کیا گیا اور راجھستان میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے عبادت کرتے ہوئے مسیحیوں پر پتھر پھینکے گئے،بھارت میں گیارہ اپریل سے انیس اپریل تک سات مراحل میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو گا تاہم اس ملک کے مسیحی اور مسلمان نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے دوبارہ انتخاب سے خوفزدہ ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق چھتیس گڑھ میں اقلیتی مسیحیوں کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مقدس کتاب بائبل کو پھاڑ دیا گیا، تامل ناڈو میں انہیں ایک مندر میں لے جا کر بھگوان کی پرستش پر مجبور کیا گیا اور راجھستان میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے عبادت کرتے ہوئے مسیحیوں پر پتھر پھینکے گئے۔ یونائیٹڈ کرسچئین فورم اور آزادی مذہب کی بین الاقوامی تنظیم الائنس ڈیفینڈنگ فریڈم (اے ڈی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی مسیحیوں کے خلاف رواں برس جنوری میں پیش آنے والے 29 واقعات میں سے یہ صرف تین واقعات ہیں، جو صورت حال کی سنگینی کو عیاں کرتے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق جب سے نریندر مودی حکومت میں آئے ہیں، بھارت کے مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.