دنیا بھر میں خسرے کی بیماری میں 300 فیصد اضافہ

جنیوا (ہم صفیر نیوز)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہاہے کہ رواں برس کے ابتدائی 3 ماہ میں عالمی سطح پر خسرے کے مرض میں 300 فیصد اضافہ ہوا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خسرے کے اصل مریضوں کی تعداد رجسٹرڈ کیسز سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2019 کے ابتدائی تین ماہ سے دنیا بھر سے خسرے کے مریضوں کی کیسز میں گزشتہ برس کے ابتدائی تین ماہ کے مقابلے تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ کے مطابق 2019 کے ابتدائی 3 ماہ میں دنیا کے 170 ممالک سے ایک لاکھ 12 ہزار 163 خسرے کے کیسز رپورٹ کیے گئے جبکہ 2018 کے ابتدائی 3 ماہ میں 163 ممالک سے 28 ہزار 124 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق رپورٹ ہونے والے کیسز محض ایک فیصد ہیں جبکہ اصل کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔عالمی اداارہ صحت کے مطابق ادارے کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے صرف ایک کیس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خسرے کی بیماری میں امریکا اور تھائی لینڈ سمیت ان ممالک میں بھی اضافہ ہوا جہاں اس بیماری کی ویکسین پابندی سے بچوں کو دی جاتی ہے اور وہ ویکسین انتہائی ایڈوانس بھی ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں خسرے کی بیماری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ان میں افریقی ملک کانگو، ایتھوپیا، سوڈان، مڈغاسکر، بھارت، فلپائن، میانمار، یوکرین، جارجیا، کازغستان اور کرغزستان جیسے ممالک شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان، یمن اور برازیل میں خسرے کا مرض بے قابو ہے۔عالمی ادارہ صحت نے خسرے کو عالمی برادری کے لیے چیلجنج قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا کہ خسرے کے مرض میں سب سے زیادہ اضافہ افریقہ میں دیکھا گیا جہاں اس میں 700 گنا اضافہ ہوا۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت، یوکرین اور مڈغاسکر جیسے ممالک میں ہر ایک لاکھ بچوں میں سے 10 ہزار بچوں کی اموات کا سبب خسرے کا مرض ہے۔ رپورٹ میں عالمی سطح پر خسرے کے مرض کے خلاف کی جانے والی کاوشوں کا بھی ذکر کیا گیا اور ان ممالک کی تعریف کی گئی جنہوں نے ہنگامی بنیادوں پر بچوں کی ویکسینیشن کی۔عالمی ادارہ صحت نے جہاں رپورٹ میں خسرے کے خلاف حفاظتی انتظامات اٹھانے والے ممالک کی تعریف کی ہے وہیں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خسرے کے مرض پر قابو پانے کے لیے جدید بنیادوں پر سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.