قوم متحد ہو کر ہر قسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہے، عمران خان

کراچی (ہم صفیر نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم متحد ہو کر ہر قسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہے، پاکستان اللہ کی بڑی نعمت ہے اس میں کسی چیز کی کمی نہیں، وہ وقت دور نہیں جب لوگ باہر سے روزگار کی تلاش میں پاکستان آئیں گے، پاکستان پر مزید دو ماہ مشکل ہوں گے، شوکت خانم ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، اب تک 25 سال میں 40 ارب روپے غریبوں کے مفت علاج پر صرف کئے جا چکے ہیں۔ جمعہ کو یہاں شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جس وقت ہم نے شوکت خانم ہسپتال کا منصوبہ شروع کیا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ ہسپتال نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام امراض سے زیادہ کینسر کے مرض کے علاج کا خرچ زیادہ ہے، جن لوگوں نے شروع دن سے ہمارے ساتھ تعاون کیا ان کے شکر گزار ہیں، اکثر لوگ اس منصوبے کو دیوانے کا خواب سمجھتے تھے، اس مشکل وقت میں سیٹھ عابد ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال واحد ہسپتال ہے جسے جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی سرٹیفکیشن مل چکی ہے، ایسا اس لئے ممکن ہوا کہ اس ہسپتال میں 75 فی صد مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے، یہ ایک خیراتی ہسپتال ہے، ہمارے ہسپتالوں میں غریبوں اور امیروں کے لئے علاج کا معیار الگ الگ ہے، یہاں غریب مریضوں کا عالمی معیار کے مطابق علاج ہو رہا ہے، 25 سال میں اس ہسپتال نے غریب مریضوں کے علاج پر 40 ارب روپے خرچ کئے، زکو سے ملنے والی رقم صرف غریب مریضوں کے علاج پر خرچ کی جاتی ہے، اس سے کوئی ساز و سامان یا تعمیراتی کام نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ عطیات اکٹھے ہوتے ہیں، اس سال بھی ابھی تک تین افطاریاں ہوئی ہیں اور تینوں میں گزشتہ سال سے زیادہ عطیات جمع ہوئے، کاروبار میں مندی کے باوجود ریکارڈ عطیات جمع ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کامیابی انسان کے کام سے نہیں بلکہ اس کی کوششوں سے ملتی ہے، نیت اللہ جانتا ہے، ہسپتال کی تعمیر سے اس کے چلانے تک مشکلات سے ہم پیچھے نہیں ہٹے، 1997میں انتخابات میں پی ٹی آئی نے حصہ لیا تو ہمارے اوپر یہ الزام لگا کہ ہم نے زکو کے پیسوں سے انتخابات لڑے، اس وقت شوکت خانم نیا نیا ہسپتال تھا، اس وجہ سے زکو اور عطیات کم ہوئے، پھر دنیا بھر میں جا کر اس کے لئے فنڈ ریزنگ کی، اس سال کے بعد ہر سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ عطیات موصول ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ 75 فیصد مریضوں کا یہاں مفت علاج ہو گا اور ہم آج تک اس وعدے سے پیچھے نہیں ہٹے، یہاں انسانوں کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا، پیسے دینے والے اور مفت علاج والوں کو برابر سہولیات ملتی ہیں، عملہ ان میں کوئی فرق نہیں کرتا، وزیراعظم نے کہا کہ اس سال ہسپتال کو ساڑھے آٹھ ارب روپے کا خسارہ ہے تاہم گزشتہ سال کی نسبت زائد عطیات جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کا ہسپتال بھی بن چکا ہے، یہاں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی کے بعد اس سال کے آخر تک آپریشن بھی شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ہسپتالوں کے مقابلوں میں کراچی میں بننے والا کینسر ہسپتال زیادہ جدید ہو گا، جب ہم نے لاہور کینسر ہسپتال شروع کیا تھا تو ہمارے پاس ایک کروڑ روپے بینک میں تھے اور 70 کروڑ کا منصوبہ شروع کیا اور اسے تین سال میں مکمل کیا، پیسوں کی وجہ سے ایک دن بھی کام میں رکاوٹ نہیں ہوئی، یہ اللہ کی برکت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے، ہر انسان اور ہر ملک کی زندگی میں اونچ نیچ آتی ہے تاہم گھبراتا وہ ہے جس کی زندگی میں اونچ نیچ نہ آئی ہو، مشکل وقت در اصل اصلاح اور سیکھنے کے لئے آتا ہے، دنیا میں مشکل وقت پر قابو پائے بغیر کسی نے بڑا کام نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسان اچھے وقت نہیں بلکہ برے وقت سے سیکھتا ہے، 1997میں جب پہلی بار ہم نے انتخابات میں حصہ لیا اس وقت میری رائے یہ تھی کہ ہماری تیاری نہیں ہے اور ہمیں انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تاہم ساتھیوں کی مشاورت پر الیکشن لڑا اور ہم ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے سے زیادہ قوموں پر برے وقت آئے، جرمنی اور جاپان عالمی جنگ میں تباہ ہو گئے لیکن دس سال میں وہ اپنے پاں پر کھڑے ہوئے، قوم اگر متحد ہو تو وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ دو اڑھائی ماہ مشکل وقت ہے، اس کی وجہ دس سال جس طرح ملک کو لوٹا گیا اور مقروض بنایا گیا، اسی وجہ سے آج ہمیں بحران کا سامنا ہے، خرچے کم اور آمدن بڑھانے تک یہ مشکل وقت گزارنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان سب سے بڑی نعمت ہے اس میں کسی چیز کی کمی نہیں، یہ ملک جلد کھڑا ہو گا اور وہ وقت دور نہیں جب باہر سے لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010میں جب تباہ کن سیلاب آیا تو اس وقت بیرونی امداد بھی نہیں ملی لیکن اس کے باوجود پاکستانیوں نے بھرپور امداد کی اور چھ ماہ میں اتنے بڑے سیلاب کے نقصانات سے نکل گئے۔ انہوں نے کہا کہ 1960میں دنیا پاکستان کی جس طرح مثال دیتی تھی اسی طرح ایک بار پھر اس کی مثال دے گی۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.