نیب اپنے ترجمان کے ذریعے میڈیا میں چھڑی بحث کو سمیٹے،‘ فردوس عاشق اعوان

لاہور(ہم صفیر نیوز)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب سے متعلق متنازعہ ٹیپ انجینئر کی گئی،اپوزیشن ایسی جعلی آڈیو ٹیپ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتی، نیب اپنے ترجمان کے ذریعے میڈیا میں چھڑی بحث کو سمیٹے، عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا احتساب ہو گا، جن کی گردن کے قریب نیب کا شکنجہ پہنچ رہا ہے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، سیاسی یتیموں کا ٹولہ اور سیاسی مردوں کا جمعہ بازار اپنے سیاسی مردے زندہ کرنے کیلئے حکومت اور عمران خان پر تنقید کر رہا ہے،مریم،شہباز اور نواز کا الگ الگ بیانیہ ہے،انکا بیانیہ مفاد پر مبنی ہے،مختلف بیانیہ (ن) لیگ کے اندر افتراتفری کا اشارہ ہے، عدالتی مفرور جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اور کرپشن کیسز میں عدالت اور نیب کو مطمئن نہیں کرسکے اور اب چیئرمین نیب کے حوالے سے غلط اور من گھڑت ویڈیو ٹیپ انجینئر کرکے مارکیٹ میں پھینک رہے ہیں اور وزیر اعظم کو جان بوجھ کر اس پورے معاملے میں گھسیٹا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں افطار ڈنر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بغض اور حسد کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، کسی فرد کا ذاتی فعل ہو یا کوئی سازشی کارروائیاں جو کسی ادارے کے سربراہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے ہوں اس میں بھی اپوزیشن جان بوجھ کر اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کیلئے عمران خان کو لے کر آتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی ذات پر 9 ماہ میں کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے حکومت کی طرف سے بڑا واضح موقف کا آچکا ہے کہ جس شخصیت کے چینل پر گفتگو آن ایئر ہوئی وہ نہ وزیر اعظم سے نوٹیفائیڈ یاان کے آفس سیکرٹریٹ میں کوئی عہدہ رکھتے ہیں، وہ ایک پرائیویٹ مشاورتی پراسیس میں کسی جگہ پر جہاں مطلوب ہوتے تھے وہاں میڈیا کمیونیکیشن سٹرٹیجی کیلئے سپورٹ کرتے رہے ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ وہ کوئی شخص پاکستان کے ریاستی یا قومی اداروں کے مفادات کو زد پہنچائے اس کے کسی جگہ پر وجود کو بھی برداشت کیا جائے گا تاہم فوری طور پر وزیر اعظم نے انہیں پرائیویٹ مشاورتی پراسیس جس میں ان کی موجودگی ہوتی تھی اس پر پابندی لگادی۔ ا نہوں نے کہا کہ ہم ادارے کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے آئینی و قانونی کردار کے اندر ان کو سپورٹ کرتے رہیں گے اور حکومت اس آئینی ادارے کے کرپشن کی حوصلہ شکنی،عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے کیلئے کردار کی سہولت کاری کا آئینی اور قانونی فریضہ ادا کرتی رہے گی، میڈیا بھی اس سلسلہ میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ماضی میں طاقتور شخصیات ہمیشہ اداروں کو اپنا تابع بناتی رہیں،وہ وقت چلا گیا جہاں طاقتور شخصیات اداروں کو ڈکٹیٹ کیا کرتی تھیں،آئین اور قانون کو گھر کی لونڈی بنایا کرتی تھیں اور عدالتوں کو یرغمال بنا کر فیصلے لیا کرتی تھیں اب وہ وقت چلا گیا اب یہاں قانون کی حکمرانی ہو گی، پاکستان کے ادارے آزاد اور خود مختار کردار ادا کرینگے، ان کے اس آئینی اور قانونی کردار میں اگر کوئی بھی روڑے اٹکائے گا اور رخنہ ڈالے گا یا پریشر ڈالے گا تو حکومت ان اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ انتشار کا شکار اپوزیشن کا کوئی متفقہ بیانیہ نہیں،شاہد خاقان عباسی انتخابات میں جانے کی بات کر رہے ہیں، مریم نواز کہہ ر ہی ہیں کہ وہ اس حکومت کو سہارا دے کر کھڑا رکھیں گی اور اسے گرانا نہیں چاہتی، شہباز ا ورنواز الگ الگ بیانیہ رکھتے ہیں، ان کا کاروباری اور سیاسی مفادات کے ساتھ جڑا ہوا بیانیہ ہے جہاں ان کو مفاد نظر آتا ہے وہ اپنے بیانیہ کا رخ اس طرف موڑ دیتے ہیں اور یہ تمام چیزیں (ن) لیگ کے اندر افراتفری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا طریقہ واردات یہ ہے کہ اداروں کو متنازعہ بنایا جائے،دباؤ بڑھایا جائے اور وقتی ریلیف لینے کیلئے ایسا ماحول پیدا کیا جائے لیکن ہم اپوزیشن کی ایسی سازش کو ناکام بنائیں گے اور اداروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے متنازعہ ٹیپ انجینئر ہوئی اور پیدا کی گئی، آج کی بعض لوگوں کی پریس کانفرنس بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ منظم واردات اور بڑا ٹارگٹڈ ایجنڈا ہے ایسی ہی چیزیں مارکیٹ میں پھینکنا (ن) لیگ کا وطیرہ رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ہمارے لئے چیلنجز بنا ہوا ہے، ڈیجٹیلائزیشن کے دور میں ہمیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.