ایمنسٹی سکیم کا مقصد محض پیسے اکٹھے کرنا نہیں، چیئرمین ایف بی آر

لاہور(ہم صفیر نیوز )چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے کہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم بنیادی طور پر اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم ہے اور اس کا مقصد محض پیسے اکٹھے کرنا نہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانا ہے،ماضی میں بے نامی اکاؤنٹس اور جائیدادوں کے حوالے سے قانون بنایا گیا مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،ہم سب کیلئے ضروری ہے کہ بے نامی اثاثوں کے حوالے سے بنائے گئے قانون کو سمجھا جائے،پارلیمنٹریرینز کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے،اداروں کی کرپشن کا مسئلہ حل کرنے کے لئے سب کی رائے لینا چاہتا ہوں،مستقبل میں پاکستان سے باہر پیسہ لے کہ جانا آسان نہیں ہو گا۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے ”ایمنسٹی سکیم مستحکم قومی معیشت کا روڈ میپ“کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کو پہلی مرتبہ2017میں متعارف کروایا گیا مگر بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،اب ہماری پوری کوشش ہے کہ اس سکیم کے ذریعے قومی معیشت کو دستاویزی بنایا جائے جس کیلئے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔اسی طرح بے نامی کھاتوں اور جائیدادوں کے حوالے سے قانون لایا گیا مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جبکہ ہم سب کیلئے ضروری ہے کہ ہم بے نامی لاء کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اس کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتہائی آسان اور عام سکیم متعارف کروائی ہے جس سے آپ کے مسائل حل ہوں۔انکم ٹیکس آفیسر ز کو سختی سے منع کیا ہے کہ وہ کسی بھی تاجر یا بے نامی دار اکاؤنٹ ہولڈر سے ان کی اجازت کے بغیر پوچھ گچھ نہ کریں کیونکہ ٹیکس دہندگان اور انکم ٹیکس آفیسر ز کے درمیان قربت نہیں ہونی چاہئے جو مطلوبہ اہداف کے حصول میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔اداروں کی کرپشن کا مسئلہ حل کرنے کیلئے سب کی رائے لینا چاہتا ہں اور تاجر برادری سمیت اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتیں بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ملک سے باہر پیسہ لے جانا آسان نہیں ہو گا جبکہ پاکستان میں آپ کا پیسہ زیادہ محفوظ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ایکسچینج پاکستان کے سربراہ سے بھی اس سلسلہ میں بات کی ہے اور ان کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ ایس ای سی پی کے پاس ایک لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں کی تعداد50ہزار ہے جبکہ یہاں ایک لاکھ 43ہزار انڈسٹریل یونٹس میں صرف 43ہزار یونٹس ٹیکس رجسٹرڈ ہیں۔میرا اراداہ بندوں کو پکڑنے کی بجائے اداروں کو پکڑنا ہے جو اس غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔بے نامی اکاؤنٹس اور اثاثوں کے خاتمے کیلئے ایف بی آر دیگر اداروں سے بھی مدد حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر،پیپر،سٹیل اور سیمنٹ سمیت تمام ایسی انڈسٹریز کو پکڑا جائے گا جو ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔انہوں نے پارلیمنٹریرینز کے ٹیکس نہ دینے کے حوالے سے کہا کہ تمام پارلیمنٹرینز ٹیکس جمع کرواتے ہیں لیکن چند ایک ایسے ہیں جن کا کاروبار جن فرموں یا کمپنیوں سے وابستہ ہے وہ ٹیکس نا دہندہ ہیں،ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ شروع سے یہی رہا کہ ہمارا ٹیکس نیٹ وسیع ہونے کی بجائے محدود ہوتا گیا۔بینکس بھی ویجیلنس کر رہے ہیں کہ بے نامی اکاؤنٹس کا خاتمہ ہواور تمام ٹرانزیکشنز قانون کے مطابق اور ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعے کی جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کا مقصد قطعی کسی کو ہراساں کرنا نہیں اور نہ ہی کوئی ٹیکس آفیسر کسی کو ہراساں کرے گا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.