حزب اختلاف کی جماعتوں کا سندھ اسمبلی میں شدید احتجاج ،سندھ حکومت کے بجٹ کو مسترد کر دیا

کراچی (مانیٹرنگ ڈسیک ) حزب اختلاف کی جماعتوں نے سندھ اسمبلی میں شدید احتجاج کرتے ہوئے سندھ حکومت کے بجٹ کو مسترد کر دیا ہے ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی تو اپوزیشن ارکان قائد حزب اختلا ف فردوس شمیم نقوی کی قیادت میں اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی ۔ اپوزیشن ارکان احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے ڈیسک کی طرف بڑھے تو پیپلز پارٹی کے ارکان نے انہیں حصار میں لے لیا ۔ احتجاج کے دوران اپوزیشن کے مشتعل ارکان نے کئی مرتبہ وزیر اعلی سندھ کے مائیک پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی ۔ جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے دھکم پیل کے ذریعہ ناکام بنا دیا ۔ اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کے مابین ہاتھا پائی بھی ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پلے کارڈز اٹھا کر وزیر اعلی سندھ کے سامنے احتجاج کرتے رہے اور پانی دو پانی دو کے نعرے بلند کرتے رہے ۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں مختلف پلے کارڈز لہرا ئے ، جن پر کراچی کو پانی دو ، ایڈز کے مریضوں کا حساب دو ، کرپشن بند کرو ، ظالموں جواب دو ، کرپشن کا حساب دو ، کراچی کو این ایف سی سے حصہ دو ، صوبائی اور ضلعی مالیاتی کمیشن قائم کرو ، بلدیاتی اداروں کو فنڈ دو کے نعرے درج تھے ۔ اپوزیشن ارکان ایوان میں اپنے شدید احتجاج کے دوران بجٹ دستاویزات کی مدد سے ڈیسک بھی بجاتے رہے ، جس کے سبب وزیر اعلی کو تقریر کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آغا سراج درانی کی نشست کا گھیراوَ کر لیا اور وہاں اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ بھی جذباتی ہو گئے اور انہوں نے اپنے انگریزی زبان میں خطاب کے دوران کہا کہ اپوزیشن کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے سندھ کے عوام نے انہیں بار بار مسترد کیا ہے ۔ انہیں ہمارے خلاف احتجاج نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے ، جس نے سندھ کے مالی وسائل کو روک رکھا ہے ۔ جس کے باعث سندھ کے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کچھ اور فیصلہ کیا ہوا ہے ۔ وفاقی حکومت اپنی نا اہلی اور کام نہ کرنے کے رحجان کے باعث عوام کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 11 ماہ میں 447 ارب روپے کی ریکارڈ کے ساتھ ایف بی آر کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق کی طرف سے سندھ کو حصہ نہ ملنے کے باعث ہ میں 177ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.