کراچی کے تاریخی اثاثے کو محفوظ رکھنا کارنامہ ہے،میئر کراچی

کراچی (مانیٹرنگ ڈسیک)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایمپریس مارکیٹ کے اندرونی احاطے میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی، بلدیہ عظمیٰ کراچی کا آئندہ بجٹ آنے کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایمپریس مارکیٹ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی، ایمپریس مارکیٹ بھی انہی عمارتوں میں سے ایک ہے جو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں لہٰذا اس کی بحالی نہایت احتیاط کے ساتھ ہونی چاہئے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اپنے دفتر میں ایمپریس مارکیٹ کے دکانداروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے تنظیم نو برادران قریش صدر کے سرپرست اعلیٰ سراج الدین قریشی کی قیادت میں میئر کراچی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور مارکیٹ کے احاطے میں انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن،اسٹیٹ کمیٹی کے چیئرمین ناصر تیموری اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے افسران بھی موجود تھے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے تاکہ یہ عمارت اس شہر کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنے اور یہاں آکر لوگ خوشی محسوس کریں، ایمپریس مارکیٹ کے اطراف ترقیاتی کام جاری ہے، صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے اطراف ایک خوبصورت پارک تعمیر ہورہا ہے، کراچی کے تاریخی اثاثے کو محفوظ رکھنا کارنامہ ہے اور اس میں صدر کے کاروباری حضرات کا تعاون اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ شہر ہم سب کا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی ہم سب کو مل کر کرنی ہے لہٰذا ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ اس حوالے سے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے کرایہ داروں کے حقوق کا ہر حال میں خیال رکھا جائے گا مگر جو اصل الاٹی ہیں انہی کو اہمیت دی جائے گی جن لوگوں نے دکانوں کو غیرقانونی طور پر فروخت کیا ہے ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جن دکانداروں نے کرایہ نہیں دیا اور دکان کا ایگریمنٹ منسوخ ہوچکا ان کے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.