ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں 3 جولائی تک توسیع

اسلام آباد (ہم صفیر نیوز)وفاقی حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم (ایمنسٹی اسکیم) کی مدت میں 3 جولائی تک توسیع کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ اثاثے ظاہرکرنے کی اسکیم ختم ہونے کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آئے گا،بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں،حکومت کے کسی بھی قدم، کسی بھی اچھائی کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ عوام کیلئے کتنی اچھی ہے،بجٹ کے پانچ بنیادی نکات ہیں، خارجی خطرات سے نمٹا جائے،سادگی کو سخت انداز میں اپنایا جائے،غریب طبقے کی مدد کی جائے،صنعت کاروں کی مدد کی جائے،ریونیوز کو موبلائز کیا جائے،بیرونی خطرے کو قابو کرنے کے لیے ہم نے کچھ اقدامات کیے، جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدات پرڈیوٹی بڑھائی گئی، اس بجٹ میں بھی یہی سلسلہ برقرار ہے،آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا 3پیکج جولائی کو منظور ہونے کا امکان ہے،ایشین ڈیویلپمنٹ بینک 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ایک ارب ڈالر آئندہ سال میں دیے جائیں گے، عالمی بینک سے بھی آسان شرائط پر قرض کے حصول کیلئے کوشاں ہیں،فوجی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے پر آرمی چیف کا اقدام لائق تحسین ہے،صنعت کاروں کو ہر قسم کی مراعات دینے کے لیے تیار ہیں،وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور اندرون ملک سیلز پر ٹیکس ادا کریں،اسکیم سے اب تک ہزاروں افراد مستفید ہوچکے ہیں جن کی تفصیلات آئندہ چند روز میں جاری کی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار اتوار کو مشیر خزانہ حفیظ شیخ نیحکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ڈاکٹر حفیط شیخ نے کہا کہ حکومت نے اثاثے ظاہر کر نے کی اسکیم کی مدت میں تین جولائی تک توسیع کر دی ہے۔انہوں نے کہاکہ اثاثے ظاہرکرنے کی اسکیم ختم ہونے کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آئے گا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ کا پیش ہونا اہم ایونٹ ہوتا ہے، بجٹ نہایت اچھے انداز میں قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی کوشش رہی ہے کہ ہر چیز میں شفافیت ہو،اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور سچ بولا جائے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں حکومت کے کسی بھی قدم، کسی بھی اچھائی کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ عوام کے لیے کتنی اچھی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ کے پانچ بنیادی اور اہم نکات ہیں جب حکومت آئی تو ہم بحران کی صورتحال میں مبتلا تھے جس سے ہم نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، ملکی برآمدات خطرناک حدتک گرچکی تھیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کے 5 اہم اور بنیادی نکات بتاتے ہوئے کہاکہ خارجی خطرات سے نمٹا جائے،سادگی کو سخت انداز میں اپنایا جائے،غریب طبقے کی مدد کی جائے،صنعت کاروں کی مدد کی جائے،ریونیوز کو موبلائز کیا جائے،انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے 31 ہزار ارب روپے اور غیر ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ایسے حالات میں درآمدات اور برآمدات کا خلا بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے روپے کی قدر ڈالر کی قدر گر رہی تھی۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اس بیرونی خطرے کو قابو کرنے کے لیے ہم نے کچھ اقدامات کیے، جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدات پرڈیوٹی بڑھائی گئی، اس بجٹ میں بھی یہی سلسلہ برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جسے ایک سال کے دوران ساڑھے 13 ارب ڈالر تک لایا گیا ہے اور نئے بجٹ میں اقدامات تجویز دیے گئے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ کو کم کرکے 7 ارب ڈالر تک لایا جائے گا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس سے برآمدات اور درآمدات میں خلا کم ہوگا اور روپے پر بھی دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے چین، متحدہ ارب امارات اور سعودی عرب سے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر لیے، سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کی حاصل کی گئی۔انہوں نے کہاکہ اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک سے موخر ادائیگیوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی گئی، قطر سے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے اور آدھی رقم وصول کی جاچکی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کا 3پیکج جولائی کو منظور ہونے کا امکان ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ایک ارب ڈالر آئندہ سال میں دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک سے بھی آسان شرائط پر قرض کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ حکومتی اخراجات کو انتہائی سخت انداز میں کم کیے جائیں، آنے والے سال میں 2 ہزار 9 سو ارب ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ قرضے ہم نے نہیں لیے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے، جو بھی ریونیو جمع ہوتے ہیں اس میں سے 57.5 فیصد صوبوں کا حق ہے جس سے ہم آئینی طور پر نہیں بچ سکتے یہ ہمیں صوبوں کو لازمی دینا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے بجٹ میں 50 ارب روپے کم کرنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں ایک سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد، 17 سے 20 گریڈ افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ 20 گریڈ سے اوپر کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ کابینہ ارکان کی تنخواہ میں 10 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ مسلح افواج کے بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا اور اس پر فوجی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے پر آرمی چیف کا اقدام لائق تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے کمزور ترین طبقے پر حکومتی پیسہ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے سماجی تحفظ کے بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے کیا گیا، اس ضمن میں نقد رقم، صحت کارڈ وغیرہ فراہم کیے جائیں گے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والیصارفین پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں پڑیگا جس کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ قبائلی علاقے کے عوام کے لیے 152 ارب روپے مختص کیے گئے اور پی ایس ڈی پی میں 925 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں بلوچستان، جنوبی پنجاب کو توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتوں کو بجلی اور گیس سبسڈی دی ہے،کاروبار میں اضافے کے لیے قرضوں کی کچھ ادائیگی حکومت کرے گا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ صنعتوں کو خام مال کی خریداری پر عائد درآمدی ڈیوٹی صفر کی جائے گی، اس طرح سے 1650 ارب روپے سے زائد کی اشیا پر ڈیوٹی صفر کی گئی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں کی گیا لیکن اندرون ملک فروخت پر عائد کیا گیا ہے، 10 سے 12 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیرون ملک فروخت ہوتی ہیں تو اتنی ہی مقامی مارکیٹ میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم صنعت کاروں کو ہر قسم کی مراعات دینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور اندرون ملک سیلز پر ٹیکس ادا کریں۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ریونیو کا ہدف 5 ہزار 5 سو ارب طے کیا ہے لیکن امیر طبقے سے ٹیکس لیے بغیر کوئی چارہ نہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ٹیکس دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر کوشش کریں گے کہ یہ ہدف پورا ہو کیونکہ یہ ہدف پورا ہوگا تبھی حکومت انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور صاف پانی سمیت دیگر شعبوں میں بہتری لائے گی جس کے لیے فنڈز ضروری ہیں۔وفاقی وزیر برائے ریونیو نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے آج سے 10 سے پہلے ایف بی آر ڈیٹا کو نادرہ کے ڈیٹا سے ضم کرنے کا کہا تھا اور ہماری حکومت یہ کام 10 دن میں کرنے میں کامیاب ہوئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ریونیو کے اضافے میں جو اقدامات نہیں کیے گئے تھے وہ ہم نے ابتدائی 10 ماہ میں کیے۔مشیر خزانہ نے عوام سے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے مستفید ہونے کی اپیل کی،انہوں نے کہا کہ بینامی کمیشن بنایا گیا ہے جس کا کام ہوگا کہ ایمنسٹی اسکیم کے بعد جن جائیدادوں کا اعلان نہیں کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں 3 جولائی تک توسیع کررہے ہیں جس سے بینکنگ اوقات میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ایمنسٹی اسکیم میں توسیع سے متعلق مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت نے شبر زیدی کی سفارش پر کیا۔وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ اسکیم سے اب تک ہزاروں افراد مستفید ہوچکے ہیں جن کی تفصیلات آئندہ چند روز میں جاری کی جائیں گی۔چیئرمین فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ حکومت کے پاس ان کی ٹیکس ادائیگی کا کوئی ڈیٹا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔حماد اظہر نے سگریٹ پر عائد ٹیکسز سے متعلق کہا کہ تمباکو کی صنعت پر ٹیکس کسی لابی کو خوش کرنے کے لیے واپس لینے کا دعویٰ مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ صرف درآمدی ٹیکس واپس لایا گیا ہے، ٹیئر ون کے لیے سگریٹ کے فی پیک پر 14 روپے اور ٹیئر 2 کے لیے فی پیک پر 8 روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو براہ راست محکمہ صحت کو دیا جائے گا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ ٹیکس نظام بوسیدہ تھا جس میں اصلاحات لارہے ہیں اور نان فائلرز کو فائلر بنا رہے ہیں، قومی شناختی کارڈ نمبر اگست کے بعد سے این ٹی این نمبر بن جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ریفارمز لانے کے لیے کچھ تبدیلیاں بھی کرنی پڑیں گی، سیلز ٹیکس میں کوئی انسانی مداخلت نہیں ہوگی، ہراساں کرنے والوں کے اختیارات کم کردیے ہیں جس کے بعد اب ایف بی آر افسران ٹیکس ادائیگی کرنے والے کو ہراساں نہیں کرسکیں گے۔معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی تاریخ کا پہلا عوامی فلاحی بجٹ منظور کیا گیا ہے جو اسٹیٹس کو کے خاتمے کا عکاس ہے،ملک کا سٹیٹس کو بدلنے کے حوالے سے وفاقی بجٹ حکومتی عزم کا عکاس ہے۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں توسیع سے متعلق چوبیس گھنٹے پہلے ٹویٹ اور چیئرمین ایف بی آر کی لاعلمی پر مشیر خزانہ نے ان کا دفاع کرنے ہوئے کہا کہ سکیم میں توسیع چیئرمین ایف بی آر کی سفارش پر ہی کی گئی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.