ایس ای سی پی کی کمپنیوں سے سونے اور قیمتی پراپرٹی کی ریکوری کیلئے کریک ڈاون کی رپورٹوں کی تردید

اسلام آباد (ہم صفیر نیوز)سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کارپوریٹ سیکٹر اور کپیٹل مارکیٹ کی بہتری اور ترقی کے لئے تمام ضروری اقداما ت کر رہا ہے۔ ایس ای سی پی میڈیا میں شائع کی جانے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ادارہ کمپنیوں کے خلاف سونے یا قیمتی جائیداد کی ضبطی کے لئے کسی بھی قسم کی کارروائی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس قسم کی کوئی کارروائی بھی کمیشن میں زیر غور نہیں ہے۔ ایس ای سی پی کی طرف سے واضح کیا جاتا ہے کہ ایس ای سی پی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 یا بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کو ریگولیٹ یا نافذ کرنے کا ذمہ دار ادارہ نہیں ہے۔ ایس ای سی پی کے اختیارات صرف کمپنیز ایکٹ 1997 اور اس ایکٹ کے شیڈول میں دئے گئے دیگر قوانین پر عمل درآمد کرواناہے۔ حال ہی نافذ کئے گئے ایس ای سی پی سرچ اینڈ سیژر رولز 2019، ایس ای سی پی ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت جاری کئے گئے ہیں۔ ان رولز میں تفتیش کرنے والے افسروں کو دئیگئے اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے سخت طریقہ کار اور شرائط طے کی گئیں ہیں۔ ان اختیارات کو استعمال کرنے کی منظوری صرف اور صرف کمیشن کی جانب سے صرف ایس ای سی پی کے ذمہ قوانین کے نفاذ کے معاملے میں دی جا سکتی ہے۔ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی واضح تردید کی جاتی ہے کہ ایس ای سی پی کو کسی قسم کے نئے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سرچ اور سیژر اور زبردستی داخل ہونے کا اختیار، ایس ای سی پی کے قیام سے ہی اس کے قانون کا حصہ رہا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے سرچ اینڈ سیژ ررولز کا مقصد صرف اور صرف ان اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا اور ان کو ایک متعین طریقہ کار کا پابند بنانا ہے۔ یہ رولز انویسٹی گیشن افسران کو پابند کرتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی تلاشی یا زبردستی داخلے کے لئے پہلے کمیشن سے تحریری منظوری حاصل کی جائے۔ ایس ای سی پی کا کمیشن وفاق حکومت کے تعینات کردی پانچ کمشنروں پر مشتمل ہے۔ بعض صورتوں میں تو متعلقہ مجسٹریٹ کی اجازت حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.