سکھر میں سرسو کی جانب سے کمیونٹی کانفرنس، بلاول بھٹو زرداری، مراد علی شاہ سمیت دیگر کی شرکت

سکھر(ہم صفیر نیوز) پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کے معاشی، جمہوری اور انسانی حقوق پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرینگے، آخری سانس تک ہر ایک قربانی اور ہر قسم کی جدوجہد کے لیے تیار ہیں، سرسو سندھ کا غربت کو مٹانے کا پروگرام پورے ملک میں پھیلا کر حقیقی تبدیلی لاکر دکھائینگے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سکھر کے مہران کلچرل کامپکیکس میں سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کی جانب سے خواتین کو منظم کرکے اپنے پیروں پر کھڑاکرنے کے لیے پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام سے مستفیدہونے والی سندھ کے 09اضلاع کی خواتین کی کمیونٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کرکے احساس پروگرام کی بات وہ حکومت کررہی ہے جن کو غریب عوام، مزدوروں اور خواتین کا کوئی احساس ہی نہیں ہے اور احساس کے نام پر مذاق کیا جا رہاہے موجودہ وفاقی حکومت کی کوشش ہوگی کہ بی آئی ایس پی ختم ہو، مگر ملک کی خواتین اس پروگرام کو ہر گز ختم ہونے نہیں دینگی۔انہوں نے کہا کہ یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہی کی بدولت ہے کہ خیبرپختوخواہ سے فاٹا اور کشمور تا کراچی خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا گیا ہے، سندھ میں سرسو کا انقلابی پروگرام جاری ہے جسے یورپین یونین سمیت تمام دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے اور یورپین یونین نے فنڈز کو بڑھاتے ہوئے پاورٹی رڈکشن پروگرام کو سندھ بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا ہے، یہ کامیابی پورے سندھ کے خواتین کی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پر تنقید کی جارہی ہے کہ انہوں نے نہ میٹرو بنایا نہ ہی یوٹرن،میرا جواب آج یہاں پر موجود یہ خواتین ہیں جو اپنے پیروں پر کھڑی ہیں۔انہو ں نے کہا کہ آج پوری دنیا تسلیم کرچکی ہے کہ سندھ کی خواتین سب سے آگے ہیں اور ہم خوشی سے پیسے دے رہے ہیں، آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا ہے کہ بی آئی ایس پی کو ختم ہونے نہیں دیا جائیگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سرسو نے آج تک حکومت سندھ کی فنڈنگ سے 10لاکھ خاندانوں کو منظم کیا ہے،ایک لاکھ80ہزار خواتین کو بغیر سود کے قرض کی فراہمی، 50ہزار کے گھر وں کی تعمیر اور50ہزار خواتین کو ووکیشنل ٹریننگ دلائی گئی ہے، یہ پروگرام تما م سکھر ڈویژن میں پھیلایا جائیگااور بجٹ میں بھی فنڈز رکھے گئے ہیں اور غریب ترین خواتین کو خودکفیل بنایاجائیگا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر پیپلز پارٹی کا مشن رہا ہے کہ غریب عوام کی خدمت کریں شہید بھٹو نے ان پاکستانیوں کو زمین دلائی جو کبھی بھی زمین کے مالک نہ تھے، مزدورں کوصنعتوں کا مالک بنایا اور ملک میں روزگار دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مفت پاسپورٹ بناکر دئیے اور بیرونی ملک روزگار کے لیے بھیجا گیا۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ غریب عوام کی دعاؤں اور ووٹ کی طاقت سے آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی اور انشاء اللہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام گلگت بلتستان اور فاٹا سے لیکر ملک کے کونے کونے تک پہنچا کر خواتین کو مضبوط کرینگے ہم چاہتے ہیں کہ ہم سندھ کی خواتین سمیت پورے ملک کی خواتین کی معاشی زندگی کو بہتر کریں پی پی چیئرمین نے پارٹی سربراہان کو ہدایت کی کہ تمام ضلعی چیئرمینز، سکھر اور لاڑکانہ کے میئرز سمیت تمام مقامی محکموں کے دیگر نمائندوں کو پابند کیا جائے کہ مقامی سطح پر ہونے والے ترقیاتی کاموں اور علاقوں کی ترقی کے لیے سرسو کی منظم خواتین کو مددگار بنایا جائے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جائے کیونکہ وہ محلے اور یوسی سطح تک عوام کے مسائل سے بہتر طور پر آگاہ ہیں اگر ہم سب ملکر کام کرینگے تو پھر صفائی ستھرائی اور پینے کے پانی کے مسائل حل ہونگے،اس کے ساتھ ساتھ صحت اور ویکسینیشن پروگراموں میں بھی مدد ملی گی اور ہم آئندہ نسلوں کو روشن مستقبل دے سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکر کام کرنے سے سندھ میں معاشی انقلاب آئیگا، معیشت،حکمرانی اور سروس ڈلیوری بہترہوگی۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ عوامی طاقت سے اس نظام کا مقابلہ کیا جائیگا اور ان قوتوں کا مقابلہ کرینگے جو سمجھتے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرکے غریبوں سے روزگار چھین کر تبدیلی لائینگے اور جو سمجھتے ہیں کہ 50لاکھ گھروں کا وعدہ کرکے غریبوں کی جھونپڑیاں گرائینگے، پیپلزپارٹی کا نظریہ رہا ہے کہ غریب عوام کے لئے آخری سانس تک جدوجہد کی جائیگی اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں مگر معاشی، جمہوری اور انسانی حقوق پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاق کی جانب سے فنڈز میں کمی اور محدود وسائل کے باوجود سرسو کا پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام جاری رکھا جائیگا، کیونکہ اس پروگرام کا مقصد نچلی سطح تک پہنچ کر خواتین کو طاقت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے سال2009ء میں شروع کیے گئے اس پروگرام کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ پہلے خواتین کو گھروں سے نکلنے کا شعور نہ تھا مگر آج وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہیں ہم اس پروگرام کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ بھر کے ہرعلاقے تک پھیلاکر خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرینگے اور ان کو اپنی بات کرنے کی طاقت فراہم کرینگے۔انہوں نے کہا ک شہید بینظیر بھٹو آج لاکھوں کروڑوں خواتین کے روپ میں موجود ہیں، ان کے نظریہ کے تحت خواتین کو خودمختارر بنایا گیا ہے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ عمران خان نئے پاکستان کی بات کررہا ہے اور ہم ترقی کی بات کررہے ہیں جس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارا ہر اول دستہ ہیں، عمران خان ان غریب خواتین کے سامنے نہ آئیں کہ کہیں ان کی کرسی نہ چلی جائے، انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری کی قیادت میں سندھ کے لوگ اورپیروں پر کھڑی خواتین نیا پاکستان بنا کر دکھائیں گی۔ کمیونٹی کانفرنس کے دوران خیرپور، سکھر، گھوٹکی، نوشہروفیروز، قمبر شہداد کوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور،کندھ کوٹ اور لاڑکانہ اضلاع میں پیپلز پارٹی رڈکشن پروگرام سے فائدہ حاصل کرنے والی خواتین کی کثیر ٍتعدا د نے اپنی کامیابیوں کی کہانیاں سنائیں اور جذباتی تقاریر بھی کیں۔ قبل ازیں سی ای او سرسو دتل خان کلہوڑو نے استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرا علیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مختلف ایل ایس اوز، سی اوز اور وی اوز کی بہتر کارکردگی دکھانے والی خواتین عہدیداروں میں لیپ ٹاپس، اعزازی چیک، سرٹیفکیٹ اور لو انکم ہاؤسنگ اسکیم کے چیک بھی تقسیم کیے۔ کمیونٹی کانفرنس میں ایم این اے سید خورشید احمد شاہ، پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی، صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، سید ناصر حسین شاہ، سید اویس شاہ، نعمان اسلام شیخ، وقار مہدی، میئر سکھر بیریسٹر ارسلان اسلام شیخ، جمیل سومرو اور دیگر بھی موجود تھے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.