سندھ میں بیراج کے مقام پر روزانہ کی بنیاد پر لاشوں کا ملنا معمول بنتا جا رہا ہے، جاوید میمن

سکھر(ہم صفیر نیوز) سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاوید میمن نے سکھر بیراج سے مسلسل لاوارث لاشوں کے ملنے اور گزشتہ 2 روز سے کوئنس روڈ پلازہ سے لاپتہ 6 معصوم بچوں کا سراغ نہ لگانے پر انتہائی حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں بیراج کے مقام پر روزانہ کی بنیاد پر لاشوں کا ملنا معمول بنتا جا رہا ہے، انتظامیہ کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پولیس چوکیاں قائم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاپتہ بچوں کی تلاش کیلئے دریائے کنارہ موجود والدین سے اظہار ہمدردی کے موقع پر شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر غلام مصطفی پھلپوٹو، رضوان قادری، و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل دریائے سندھ پر باقاعدہ غوطہ خور تعینات تھے جو کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کی صورت میں فوری طور پر دریائے میں جاکر قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بناتے تھے اور لاشوں کو نکالنے میں معاونت کرتے تھے لیکن انتظامیہ کی جانب سے انہیں تنخواہیں فراہم نہ کرنے کے باعث غوطہ خوروں نے اپنی ذمہ داریاں انجام دینا چھوڑ دی ہیں، جس کے باعث اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ضلعی انتظامیہ، میئر، اور پولیس انتظامیہ سنجیدگی سے اقدامات اٹھاتے ہوئے فوری طور پر دریائے کے کنارے اہم تفریحی مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کر کے باقاعدہ تربیت یافتہ عملہ (خوطہ خور) تعینات کریں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنائیں۔ انہوں نے گمشدہ بچوں کے والدین سے بھی اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم دکھ اورمشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ لاپتہ معصوم بچوں کو خیر و عافیت سے اپنے گھروں کو واپس کریں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.