جیکب آباد میں کیڈٹ کالج اور مہران یونیورسٹی کا سب کیمپس غیرفعال

جیکب آباد(ہم صفیر نیوز) جیکب آباد میں کیڈٹ کالج اور مہران یونیورسٹی کا سب کیمپس غیرفعال، فنڈز ہڑپ، طلباء تعلیم سے محروم، پرنسپل نے استعفیٰ دینے کا الٹیمیٹم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں کیڈٹ کالج کا تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی مہران یونیورسٹی کا سب کیمپس ایک سال گذرنے کے باوجود فعال ہوسکا ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے طلباء اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جیکب آباد میں کیڈٹ کالج کی منظور ی کے بعد عمارت کی تعمیر کے لیے رمضان کے مہینے میں ڈپٹی کمشنر جیکب آباد کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھاکہ عیدالفطر کے بعد کیڈٹ کالج کی عمارت کا کام شروع کیا جائے گا مگر تین ماہ گذرنے کے باوجود کیڈٹ کالج کی عمارت کا کام شروع نہیں ہوسکا ہے، دوسری جانب 2018میں کمرشل کالج میں مہران یونیورسٹی جامشورو کے سب کیمپس کا افتتاح کیا گیا تھا جس کے لیے سندھ حکومت نے ایک کروڑ روپے کے فنڈز میں جاری کئے تھے اور سب کیمپس کی عمارت کے لیے سابقہ ضلع ناظمہ بیگم سعیدہ سومرو نے مفت میں زمین دینے کا اعلان بھی کیا تھا مگراس کے باوجود ابھی تک عمارت کی تعمیر کا کام شروع نہیں ہوسکا ہے، عمارت کا کام ابھی تک شروع نہ ہونے کے باوجود سب کیمپس کے لیے وائس چانسلر اور اساتذہ بھی مقرر کئے گئے ہیں مگر تدریسی عمل شروع نہیں ہوسکا ہے، ضلع جیکب آباد میں ایسی صورتحال کے باعث نوجوان اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد کیڈٹ کالج اور مہران یونیورسٹی کے سب کیمپس کی عمارت کا کام شروع کیا جائے تاکہ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر کیڈٹ کالج کے پرنسپل توصیف کمال نے بتایا کہ 2012میں کیڈٹ کالج منظور ہوا تھا اور اس کے لیے 2کروڑ روپے بھی آئے تھے مگر وہ خرد برد کئے گئے جبکہ رواں برس 10کروڑ 50لاکھ روپے جاری ہونے تھے جس سے کیڈٹ کالج کی چاردیواری، جامع مسجد، طلباء کے لیے ہاسٹل اور پرنسپل کے لیے گھر تعمیر ہونا تھا جس کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سیکریٹری کالجز سے ملاقات کی ہے مگر سندھ حکومت تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مجبوراً استعفیٰ دیکر چلا جاؤنگا، دوسری جانب رابطہ کرنے پر مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو سب کیمپس جیکب آباد کے پرو وائس چانسلر سید فرمان علی شاہ نے بتایا کہ ڈگری کالج میں جلد کلاسز شروع کی جائیں گی کلاسز کو بہتر بنانے اور دیگر ضروری اشیاء کے لیے سندھ حکومت سے 200ملین مانگے ہیں جو فائل سیکریٹری فنانس کے پاس موجود ہے،فنڈز منظور ہونے کے بعد طلباء کی داخلہ اور نئی بھرتیوں کے لیے اشتہار دیا جائے گا جبکہ مستقبل میں زمین کے لیے کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر محمد میاں سومرو سے مل کر مسئلہ حل کیا جائے گا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.