قومی ایئر لائن (پی آئی اے)کی اسکائی ویز یونین کا پیپلز یونٹی میں ضم ہونے کا اعلان

کراچی (ہم صفیر نیوز)قومی ایئر لائن (پی آئی اے)کی اسکائی ویز یونین نے پیپلز یونٹی میں باضابطہ طور ضم ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اسکائی ویز یونین کے عہدیداران نے وزیراطلاعات سندھ سعید غنی اور وزیراعلی کے معاونِ خصوصی نواب وسان کی موجودگی میں اپنی تنظیم کو پیپلز یونٹی آف پی آئی اے میں اعلان کیا۔ اس موقعے پر پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کے رہنما ہدایت اللہ خان، علی لاشاری، محمد اشرف بلو، قاسم بلوچ، بشیر چنا، عقیل جاوید، ضمیر چانڈیو، اشرف بھائی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ پی آئی اے کے ہیڈ آفس کو اسلام آباد منتقل کیا جارہاہے، کیونکہ قومی ایئر لائن کی انتظامیہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کوپریشان کرنا چاہتی ہے اور وفاقی حکومت بھی کراچی کی اہمیت کو کم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرے گی۔ صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طبیعت ناساز ہے، لیکن حکومت انہیں اسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ڈاکٹرز نے بھی سابق صدر آصف علی زرداری کو اسپتال منتقل کرنے کا کہا ہے، لیکن ان کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک کیا جارہاہے۔ وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ اس وقت صدر آصف علی زرداری کے خلاف فقط الزامات ہیں، لیکن حکومتی رویوں پر پیپلز پارٹی کو تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے تھے، لیکن وہ سرخرو ہوئے۔ سعید غنی نے کہا کہ فریال تالپور کے ساتھ بھی اس طرح سلوک کیا جارہاہے، ان کی طبیعت ناساز تھی، لیکن انہیں عید کی رات اسپتال سے جیل منتقل کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ کیس سندھ میں ہے، تحقیقات اسلام آباد اور پنڈی میں چل رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے کئی لوگوں کے خلاف ایسے الزامات ہیں، لیکن انہیں نیب گرفتار نہیں کر رہا۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف جاری حکومتی ہتھکنڈوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ دریں اثنا، اسکائی ویز یونین کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ سال 2018 میں ہونے ریفرینڈم میں پی آئی اے ایمپلائیز نے اس وقت کی سی بی اے کے خلاف بننے والے اتحاد کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا، جس کے نتیجے میں اسکائی ویز یونین اور پیپلز یونٹی کا آپس میں معاہدہ ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے دونوں فریقین کو مل کر ملازمین کی بہتری کیلئے کام کرنے کی ہدایت دیں۔ اس ضمن میں نواب علی وسان کی خصوصی کاوشیں بھی شامل رہیں اور پی آئی اے ملازمین و ادارے کے وسیع تر مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکائی ویز کو پیپلز یونٹی میں مستقل طور پر ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور فریال تالپور مشکور ہیں، جنہوں نے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.