بارشوں سے کپاس کی فصل متاثر،بھاؤ میں اضافہ

کراچی(ہم صفیر نیوز)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کے سبب کاروبار متزلزل رہا۔ خصوصی طور پر سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے بیشتر علاقوں میں تیز بارش اور طوفانی ہواؤں کے سبب کپاس کی فصل کو نقصان ہوا جس کا اندازہ آئندہ دنوں میں لگایا جاسکے گا کیونکہ آئندہ دنوں میں دوبارہ بارش ہونے کی پیشنگوئی کی جارہی ہے۔ بارشوں کے بعد فصل پر وائرس اور جراثیم کا حملہ بڑھ جاتا ہے جس سے فصل کو نقصان ہوتا ہے کاشتکاروں کو محتاط رہنا پڑتا ہے محکمہ زراعت کے اہلکار کاشتکاروں کو اقدام کے متعلق ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں بھی کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں میں بارشوں کے سبب کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے تاہم وہاں کوالٹی زیادہ متاثر ہوئی ہے تاہم فصل کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج کا پانی چھوڑنے کے باعث دریا کے بیلٹ کا کچھ رقبہ متاثر ہوا ہے صوبہ پنجاب میں دریا کے بیلٹ میں کپاس کی تقریبا 6 تا 7 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ہفتے کے دوران پہلے دو تین دنوں کے دوران کاروبار میں اضافہ دیکھا گیا بعدازاں بارشوں کے سبب کاروبار متاثر ہوا صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 7700 تا 7900 روپے پھٹی کا بھاؤ فی40کلو3400 تا3700 روپے رہا۔ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من8200 تا8500 روپے رہا جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی 40کلو3300 تا3800 روپے رہا۔ بارشوں کی وجہ سے بنولہ متاثر ہونے کے سبب بنولہ کے بھاؤ میں مندی رہی۔ صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 7800تا8000 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی40 کلو3500 تا3700 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 8000 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ ہمارے یہاں کپاس کی فصل کی بوائی مئی مہینے سے جزوی طور پر شروع ہوکر اگست مہینے تک جاری رہتی ہے۔ فصل نہری پانی سے سیراب ہوتی ہے لیکن اگست ستمبر مہینے میں مون سون شروع ہوتی ہے بارشوں کے باعث کھڑی فصل کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے خصوصی طور پر ستمبر مہینے کو کپاس کے کاشتکار ستمگر کہتے ہیں کیونکہ مون سون ستمبر مہینے تک چلتا رہتا ہے ستمبر مہینے میں اگر بارش کم بھی ہوجاتی ہے تو فصل پر وائرس اور جراثیم کا حملہ ہوجاتا ہے جس سے فصل کو نقصان ہوتا ہے اس سال بھی ایسا ہی ہوا بلکہ صوبہ سندھ میں عمرکوٹ کے علاقوں میں کپاس کی بوائی کے وقت شدید گرمی کے سبب فصل متاثر ہوئی پیداوار بہت حد تک متاثر ہوئی جبکہ بعدازاں ملک میں سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے علاقے ضلع سانگھڑ میں دوبار کی بارشوں نے فصل کو متاثر کیا ضلع سانگھڑ میں کپاس کی تقریبا 13 سے 14 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوتی ہے وہاں دوسری بار کی بارشوں دوسرے اسپیل اور طوفانی ہواؤں نے پیداوار اور کوالٹی کو متاثر کیا جبکہ میرپورخاص اور حیدر آباد میں بھی شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں نے خاصا نقصان پہنچایا فصل تیار کھڑی تھی ہندو برادری کے تہوار کے باعث پھٹی کی بیشتر چنائی کرنے والی عورتوں کی تعطیل کے باعث چنائی میں تاخیر ہوئی فصل کھیتوں میں تیار کھڑی تھی اس پر شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کے سبب نقصان ہو گیا علاوہ ازیں بارشوں کی پیشنگوئی کے سبب کپاس کے بیوپاریوں اور جنرز نے پھٹی کی خریداری روک دی تھی جس کے باعث پھٹی کے کاشتکاروں نے چنائی کم کردی تھی نتیجتا پھٹی کھیت میں پڑی ہوئی تھی جس کو بارشوں کے باعث نقصان ہوا۔دریں اثنا نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کپاس منڈیوں میں مجموعی طور پر ملا جلا رجحان رہا۔ امریکہ میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ کے بعد یوایس ایڈکی ہفتہ وار رپورٹ میں روئی کی برآمد گزشتہ ہفتے کے نسبت کم ہونے کے سبب مندی رہی چین میں روئی کے بھاؤمیں استحکام رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں مندی کا رجحان برقرار رہا۔ چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تنازعہ کے سبب چین و امریکہ کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ تنازعہ کے سبب تاحال نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھا میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے آئندہ دنوں میں چین اور امریکہ کے مندوبین کے مذاکرات کے باعث تنازعہ کی شدت میں کمی آسکے گی۔مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر میں مجموعی طور پر مندی بتائی جاتی ہے کاروبار بھی کم ہے مالی بحران بڑھتا جارہا ہے دوسری جانب ایف بی آر کی جانب سے بجٹ میں ٹیکسٹائل سیکٹر سے زیرو ریٹڈمراعات ختم کر کے 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ اس سے کاروباری سنجیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے خصوصی طور پر کاٹن جنرز پریشان ہوگئے ہیں کیونکہ ایف بی آرنے روئی پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ہوا ہے لیکن وہ جنرز کے ذریعے وصول کیا جائے گا جس کی جنرز شدید مخالفت کر رہے ہیں علاوہ ازیں روئی پر ودہولڈنگ ٹیکس جو ایک فیصد تھا اسے 4.5 فیصد کر دیا گیا ہے جس کے سبب جنرز پریشان ہوگئے ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمود احمد نے اس سلسلے میں ایف بی آرکے چیئرمین شبرزیدی، عبدالرزاق داؤد اور جہانگیر ترین سے ملاقات کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جنرز کا مسئلہ حل کر دیں گے لیکن تاحال کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ بارشوں کے باعث کپاس کی فصل کو نقصان پہنچنے کے سبب کپاس کی پیداوار کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم پہلے نجی شعبہ کپاس کی پیداوار کا اندازہ ایک کروڑ 20 تا 25 لاکھ گانٹھوں کا لگا رہا تھا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.