سندھ اسمبلی کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک ہورہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(ہم صفیر نیوز)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ سندھ اسمبلی کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک ہورہا ہے، سندھ اسمبلی کے ممبران کے ساتھ غیرمنصفانہ رویہ رکھا جارہا ہے، میڈم فریال تالپور ایم پی اے ہیں، ان کا استحقاق ہے کہ وہ اسمبلی کے اجلاس اور کمیٹیز میں شرکت کریں جو کہ حکومت کی جوابداری ہے، پنجاب کی منتخب حکومت ایم پی اے فریال تالپورکے پروڈکشن آرڈر پرعملدرآمد کرنے سے انکار کررہی ہے،ممبر حراست میں ہو تو وہ اجلاس میں شرکت کرسکتا ہے، میں نے خود چیف سیکرٹری پنجاب اور وزیراعلی پنجاب سے بات کی کہ فریال تالپور کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ گزشتہ اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی بھی ہوگیا لیکن پروڈکشن آرڈر نہیں پر عمل نہیں ہوا،نیب کے چیئرمین کو خط لکھا تھا تو انہوں نے فوری ان کو اجلاس میں بھیجا،اب وہ جیل کسٹڈی میں ہیں، جیل حکام قانون کے پابند ہیں۔اتوارکووزیراعلی ہاؤس میں صوبائی وزراء سعید غنی، مکیش کمار چاولہ،سہیل انور سیال اور مرتضی وہاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جب فریال تالپور نیب کی حراست میں تھیں تو انھیں اسمبلی سیشن میں شرکت کے لیے لایا جاتاتھا مگر جب سے انھیں جیل کسٹڈی میں بھیجا گیا ہے جو کہ پنجاب کی منتخب حکومت کی انتظامیہ کے تحت ہے۔ ہر پروڈکشن آرڈر جو کہ اسپیکر سندھ اسمبلی نے ان کی پروڈکشن کے لیے جاری کیے ان پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ انہوں نے رکنِ قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ جیل میں سے مگر جب بھی اسپیکر نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تو انھیں قومی اسمبلی میں لایاگیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین بات ہے اور اس سے سندھ میں احساسِ محرومی میں اضافہ ہوگا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی ہے جس میں ان (وزیراعلی) پر زور دیا گیا ہے کہ آپ فریال تالپور کی صوبائی اسمبلی پروڈکشن کے لیے ان سے بات کریں۔بحیثیت وزیراعلی میں ان کی قرار داد پر عمل کرنے کا پابندہوں لہذا میں نے چیف سیکریٹری پنجاب، گورنر پنجاب سے اسپیکر سندھ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کے لیے بات کی مگر میری تمام گزارشات ناکام ہوگئیں اور انہوں نے سنی ان سنی کردی اور کہا کہ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ ایم پی اے فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈر جوکہ اسپیکر سندھ اسمبلی نے جاری کیے ہیں پر عملدرآمد کرائیں مگر وہ بہت زیادہ مصروف ہیں اور میری ٹیلیفون کالز بھی وصول نہیں کرسکتے ہیں۔ بحیثیت رکنِ صوبائی اسمبلی ہونے کے میڈم فریال تالپور کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے قواعد کے تحت اسپیکرز کو زیر حراست اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں مگر پنجاب کی منتخب حکومت اسپیکر کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں کررہی ہے جو کہ ان کے لیے بڑی حیران کن بات ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کوئی بات نہیں حکمران انہیں نہیں سن رہے ہیں مگر میں اس پریس کانفرنس سے خطاب کررہاہوں اور پاکستان کے لوگوں کو مطلع کررہا ہوں کہ اسمبلی میں موجود ان کے منتخب نمائندے کس طرح قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات پنجاب کے لوگوں کو بھی بتانا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں فارورڈ بلاک کی تشکیل میں کوئی صداقت نہیں،روزانہ نئی نئی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ صوبے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو مگر چند دنوں میں یہ افواہیں دم توڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے اور ایم این اے اور پی پی پی کے دیگر منتخب نمائندے اور پارٹی ورکرز چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف زرداری کی قیادت میں متحد ہیں۔انہوں نیکہا کہ جب سے پاکستان پیپلزپارٹی بنی ہے اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں مگرعوام کی طاقت سے ان تمام سازشوں کو ناکام بنایاگیا ہے۔2018 کے انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی کے خلاف سازش کی گئی تھی مگر پاکستان پیپلزپارٹی نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کی طاقت ہے جن کی بدولت وہ سیاست میں رہیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب لوگ اور دیگر نمائندے احتساب سے خوف زدہ نہیں ہیں مگر یہاں احتساب انتقام میں تبدیل کردیاگیا ہے جوکہ جمہوریت اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے فریال تالپور جب نیب کی حراست میں تھیں تو وہ اسمبلی سیشن اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرتی تھیں اور انہیں بعد میں واپس عدالتوں میں بھیج دیاجاتاتھا جب ان کی مقدمات کی تاریخ سماعت کے لیے مقرر ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن اراکین کے لیے قوانین پر سرکاری بنچوں کے اراکین یا وزرا سے مختلف طریقے سے برتاؤ ہوگا تو پھر لوگ آپ پر انگلیاں اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کو متنازعہ بنادیاگیا ہے۔فریال تالپور کے وکیل ایڈووکیٹ ضیا لنجار نے کہا کہ نیب کورٹ پہلے ہی اپنے احکامات میں واضح طور پر تحریر کرچکی ہے کہ جب بھی ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تو انہیں اسمبلی میں پیش کیاجائے اور جب ان کی مقدمات کی تاریخ مقرر ہو تو انہیں عدالت واپس لایاجائے مگر ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہاہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کا 13 ستمبر کو اجلاس طلب کیاگیا ہے اور اسپیکر نے ایم پی اے فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کردیئے ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں سندھ اسمبلی میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.