وفاق کے بڑے ہسپتال پمز میں پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کمائی کا ذریعہ بن گیا

اسلام آباد (ہم صفیر نیوز) وفاق کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے‘ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ اپنی اصل ڈیوٹیاں دینے کی بجائے لیبارٹری منیجر بن کر اپنی نجی کمپنیاں بنا لی ہیں جبکہ انتظامیہ کوالیفائیڈ منیجر لگانے کی بجائے نان پروفیشنل بندے سے لیب چلا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پمز کا میڈیکل ٹیکنالوجسٹ نواز لالی جو 1987 میں گریڈ 9 میں لیبارٹری ٹیکنیشن بھرتی ہوا تھا۔ 1992 میں میڈیکل ٹیکنالوجسٹ بن گیا لیکن اس نے سیاسی اثرو رسوخ کے باعث ایک دن بھی بطور میڈیکل ٹیکنالوجسٹ ڈیوٹی نہیں کی۔ بلکہ صرف اپنے ذاتی بزنس کو فروغ دینے کے لئے اور لیبارٹری میں آنے والے کنٹریکٹرز سے کمیشن اور کک بیکس وصول کرنے کے لئے لیبارٹری مینجر بن گیا یہ شخص بطور منیجر صرف ڈیوٹی روسٹر پر دستخط کرنے کے عوض پمز سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ اس کی ساری توجہ حسنین سائنٹیفک پر ہے جو کہ اس کی ذاتی کمپنی ہے اس کے علاوہ ری ایکشن سائنٹیفک میں بھی پارٹنرشپ موجود ہے۔لیبارٹری کے ایک نمبر کمرے میں بلڈ سی پی کے ٹیسٹ کرنے کے لئے Mindray کمپنی کی چائنہ کی جو مشینیں رکھی ہوئی ہیں اس کے پیچھے بھی نواز لالی کا ہاتھ ہے جبکہ سرکاری کاغذات میں ان مشینوں کا کنٹریکٹ روز انٹرنیشنل کے نام سے ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک طرف نواز لالی اکثر اوقات پمز میں ہڑتالی ملازمین کی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ادارے کو خودمختار ادارہ نہ بنایا جائے جبکہ دوسری طرف وہ منیجری کے زے اور دیگر مراعات بھی انجوائے کر رہا ہے۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں لیبارٹری منیجر کا کوئی عہدہ نہیں ہے ہر جگہ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ باقاعدہ عملی طورپر لیبارٹری ٹیسٹ پرفارم کرتے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ چار چار میڈیکل ٹیکنالوجسٹ لیبارٹری منیجر بنے ہوئے ہیں صبح کا لیبارٹری منیجر الگ ہے اور شام کا الگ ہے۔ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ نواز لالی جسے پمز لیبارٹری کے سابقہ سربراہ پروفیسر ڈاکٹر انوارالحق نے کرپشن میں ملوث ہونے کی وجہ سے لیبارٹری سے نکال دیا تھا اس نے صرف اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے خود ساختہ آفیسرز ایسوسی ایشن کا سہارا لیا ہوا ہے جو کہ دراصل پروموٹی افراد پر مشتمل ہے جو لوگ اس ادارے میں ساتویں سکیل‘ نویں سکیل اور گیارہویں سکیل میں بھرتی ہوئے تھے ان لوگوں نے صرف اپنی ترقیوں کو تحفظ دینے کے لئے پمز میں خود ساختہ آفیسرز ایسوسی ایشن بنائی ہوئی ہے۔ ذرائع کیم طابق یہ شخص نہ صرف لیبارٹری منیجر بلکہ یونین کی بنیاد پر پچھلے کئی سالوں سے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات بھی استعمال کر رہا ہے۔ لیبارٹری کاؤنٹر کا کمرہ نمبر 12 اکثر اوقات خالی ہوتا ہے جس کی وجہ سے مرد حضرات کو رپورٹس کے حصول کے لئے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اوپر سے لیبارٹری کاؤنٹر کا گیٹ عام مریضوں کے لئے ایک بجے ہی بند کر دیا جاتا ہے حالانکہ ہسپتال کا ٹائم دو بجے تک ہے۔ اس سے قبل فیضان نامی باہر کا شخص جسے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر لیبارٹری کاؤنٹر سے نکالا گیا تھا اس نے انیستھیزیا ٹیکنیشن احسن زیدی کی ملی بھگت سے لیبارٹری کاؤنٹر پر دوبارہ سے اپنے پنجے گاڑھ لئے ہیں۔ #/s#

Facebook Comments

POST A COMMENT.