حکومت میڈیا کے خلاف کالے قوانین بنانے سے باز رہیکونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز

کراچی (ہم صفیر نیوز) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) اسٹینڈنگ کمیٹی نے میڈیا ٹریبونلز کی تشکیل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میڈیا کے خلاف جابرانہ اقدامات اور کالے قوانین بنانے سے باز رہے ورنہ صحافتی برادری راست اقدام کرے گی جس کے نتائج کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس سلسلے میں صحافتی برادری کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے فوری طور پر رابطہ کر کے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اعلان کل جاری ہونے والے ہینڈ آؤٹ میں کیا جائے گا۔سی پی این ای کے زیر اہتمام ہونے والے میڈیا ٹریبونلز پر مذاکرے میں اخبارات کے مدیران سمیت ملکی سیاسی جماعتوں کے سندھ میں موجود نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کا کہنا تھا کہ صحافیوں نے جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی ہے اور ہم آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جس صبح نو کا خواب دیکھا تھا یہ وہ نہیں ہے اور ہمیں امید تھی کہ سیاسی عمل کے ذریعے وزیر اعظم بننے والے عمران خان آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لئے کام کریں گے لیکن اس کے برعکس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ اے پی این ایس، پی بی اے، پی ایف یو جے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے کر کے ان ٹریبونلز کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر راست اقدام اٹھایا جائے گا۔ صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں سندھ اور پیپلزپارٹی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین ان ٹریبونلز کو رد کر چکے ہیں لہذا ہماری وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہو گی کہ وہ اس فیصلے کو واپس لیں کیونکہ آزادی صحافت پر قدغن برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو کافی چیزوں کا بعد میں پتہ چلتا ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان کو یہ پتہ نہ ہو کہ یہ ٹریبونلز میڈیا کی آزادی کے لئے درست نہیں ہیں، اس لئے ان کو اس حوالے سے آگاہی دی جانی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت نے جو میڈیا ٹریبونلز کا اعلان کیا ہے اگر اس میں خرابیاں ہیں تو سی پی این ای و دیگر ادارے اس کی نشاندہی کریں تاکہ ان کو دور کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے لئے اس طرح کے ٹریبونلز ضروری ہیں لیکن صحافت کی آزادی پر کوئی قدغن آئی تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے ساری عمر جمہوریت اور آزادی صحافت کے لئے کام کیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے مارشل لا ادوار کی یاد تازہ کر دی ہیاور ہم اس کو سویلین مارشل لا سمجھتے ہیں، لہذا اس کو روکنا ضروری ہے ورنہ سارے ادارے تباہ ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن کے طور پر صحافیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی، جیل بھی جھیلی، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا ٹریبونلز ایک امتیازی قدم ہے جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم آزادی صحافت کے لئے سی پی این ای اور تمام صحافتی اداروں اور صحافیوں کے ساتھ ہر جدوجہد میں ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقع پر سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک کا کہنا تھا کہ سی پی این ای تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو ساتھ لیکر ان امتیازی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف ہر فورم پر جدوجہد کرے گی اور ہماری جدوجہد ٹریبونلز کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے اور پارلیمنٹ میں موجود عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اس طرح کے امتیازی قوانین کو منظور نہ ہونے دیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.