حج اخراجات میں کمی کیلئے تین سالہ منصوبہ بندی کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ہم صفیر نیوز) وزارت مذہبی امور نے حج اخراجات میں کمی کیلئے تین سالہ منصوبہ بندی کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت سعودی عرب میں رہائشوں سمیت دیگر انتظامات تین سالوں کیلئے حاصل کی جائیں گی کمیٹی نے حج 2019میں ناقص انتظامات اور حجاج کی شکایات کا جائزہ لینے کیلئے سب کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر عبدالغفور حیدری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری،سیکرٹری مذہبی امور مشتاق بورانہ سمیت وزارت کے دیگر افسران نے شرکت کی ہے اس موقوع پر کمیٹی کو حج 2019کے انتظامات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری مذہبی امور نے بتایاکہ رواں سال 4 بار حج قرعہ اندازی کی گئی اور وزارت کی کوشش ہے کہ آئندہ سال قرعہ اندازی ہی نہ ہو انہوں نے بتایاکہ حج کے دوران مکہ میں 2034شکایات آئیں 1737حل کردیں جبکہ 33 ابھی بھی زیر التوا ہیں جبکہ مدینہ میں 170شکایات آئی تھی اور سب کی سب حل کردی گئی ہیں انہوں نے بتایاکہ حج کے دوران ناقص کھانے سے متعلق 72 شکایات موصول ہوئیں جو تمام حل کردی گئیں اسی طرح دوران حج رہائش کی 170 شکایات موصول ہوئیں مشاعر میں مکاتب کے حوالے سے مجموعی طور پر 348 شکایات موصول ہوئیں جبکہ مکاتب کے بارے میں شکایات میں سے 46 حل کردی گئیں انہوں نے بتایاکہ مشاعر سے متعلق 297 شکایات سعودی حکومت کے سامنے اٹھائی گئی ہیں اس موقع پر کمیٹی کے چیرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ سوشل میڈیا پر بہت سی شکایات دیکھیں جو دل خراش تھیں کیا بنکر بیڈ دینے سے حج کرایوں میں کمی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ کچھ حاجیوں نے تو پانی نہ ہونے کی ٹوٹیاں ویڈیوز میں کھول کر دکھائیں جبکہ بعض ویڈیوز میں شکایات تھیں کہ مردوعورتوں کو ایک ہی جگہ دے دی گئی کمیٹی کے رکن سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہاکہ اگر یہ سب کچھ درست تھا تو پھر سوشل میڈیا پر ویڈیوز کیوں تھیں انہوں نے کہاکہ اگر حاجیوں کے مسائل کے حل کے لئے لڑنا بھی پڑے تو لڑ کر مسائل حل کروائیں جس پر سیکرٹری مذہبی امور نے بتایاکہ مشاعر کے 5 روز سعودی حکومت کے انتظامات ہوتے ہیں اور اس میں وزارت مذہبی امور کو کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے انہوں نے بتایاکہ حج کے موقع پر جو ویڈیوز شیئر ہوئی تھی ان ویڈیو ز کو چیک کیا گیا پتہ چلا کہ یہ سب رشتہ دار ہیں اس وجہ سے انہیں ایک ہی جگہ دی گئی ہے بطور سول سرونٹ میں یہ نہیں کہتا کہ اس سال انتظامات بہترین تھے اس سال گزشتہ سالوں کی نسبت انتطانات اچھے تھے یہ انتظامات میں نے نہ کسی پارلیمنٹرین یا حکومت کی خوش کرنے کیلئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کئے ہیں، سیکرٹری وزارت میں نے تمام انتظامات اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے، انہوں نے کہاکہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ منیٰ کے 5 دنوں کے علاوہ اگر کوئی شکایت ہو تو سامنے لائی جائے جس پر کمیٹی کے چیرمین نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ کسی کو چیلنج نہ کریں اس سال اتنی شکایات کی ویڈیوز آئیں جو پہلے نہیں آئی ہیں انہوں نے کہاکہ حاجیوں کو سہولیات پہنچانے کیلئے وزیر اعظم سے بات کریں حاجیوں کی بددعائیں نہ لیں جلاس کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہاکہ متواتر حج کرنے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اس سال حج انتظامات بہترین تھے جس پرکمیٹی کے رکن حافظ عبدالکریم نے کہاکہ آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں جو ویڈیوز آتی رہی ہیں اگر نہیں مانتے تو ایک تحقیقاتی کمیٹی بنادیں ا س موقع پر سیکرٹری مذہبی امور نے مزید کہاکہ وزارت نے حج اخراجات میں مذید کمی کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ 3 سالہ حج پالیسی بنائی جائے انہوں نے کہاکہ تین سالہ حج پالیسی ہونے سے عمارتوں کے معاہدے سستے اور اچھے ہوسکیں گے سعودی عرب میں ہر سال انتطانات مہنگے کرنا پڑتے ہیں وزارت نے اس سلسلے میں ملائیشن ماڈل پر حج فنڈز کے قیام کی تجویز زیر غور ہیں اس موقع پر کمیٹی کے رکن سینیٹر مومن خان افریدی نے استفسار کیا کہ کیا حکومت حج پر سبسڈی نہیں دے سکتی ہے جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت کا خزانہ خالی ہے، سبسڈی نہیں دے سکتے ہیں سیکرٹری مذہبی امور نے مذید کہاکہ حاجیوں کو ویلفئیر فنڈ اس سال واپس کردیا ہے اس موقع پر حج 2019 کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ذیلی کمیٹی سینیٹر حافظ عبدالکریم کی صدارت میں تشکیل دیدی گئی ہے کمیٹی کے ممبران میں سینیٹر منظور احمد اور سینیٹر کرشنا کماری شامل ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.