• April 1, 2020

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کوسیاسی نہ بننے دیں،پنجاب بارکونسل

اسلام آباد(ہم صفیر نیوز) پنجاب بارکونسل نے کہاہے کہ پاکستان بار کونسل کا وفاقی وزیر ڈاکٹر فروغ نسیم سے استعفیٰ کے مطالبہ سراسر بد دیانتی پر مبنی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کیس کوسیاسی نہ بننے دیں، اگر سپریم جوڈیشنل کونسل کے پاس فیڈرل گورنمنٹ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس بھیجا ہے تو اس کا آئینی اختیار ہے کہ وہ اس کا آئینی فیصلہ فرمائے ، صدر مملکت نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تمام حقائق سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھے ہیں، وہ انکوائری کر کے جو فیصلہ کرے گی پوری وکلاء برادری اسے تسلیم کرے گی۔ جاری بیان کے مطابق چیرمین ایگزیکٹو پنجاب بار کونسل جمیل اصغر بھٹی نے کہا ہے کہ پنجاب بار کونسل کی ایگز یکٹو کمیٹی نے اس سے قبل بھی قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس پر قرار داد پاس کی تھی کہ قانون اور آئین سے کوئی بالاتر نہیں ہے، اگر سپریم جوڈیشنل کونسل کے پاس فیڈرل گورنمنٹ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس بھیجا ہے تو اس کا آئینی اختیار ہے کہ وہ اس کا آئینی فیصلہ فرمائے لیکن بعد ازاں چند مفاد پرست عناصر نے اپنے ذاتی ایجنڈہ کی بنیاد پر اس کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس کی پنجاب بار کے ممبران بھر پور مذمت کرتے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس کو افتخار چوہدری کے کیس کی طرح سیاسی نہ بننے دیا جائے کیونکہ منتخب وفاقی حکومت کے صدر مملکت نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تمام حقائق سپریم جوڈیشل کونسل جو کہ آئینی ادارہ ہے کے سامنے رکھے ہیں۔ وہ انکوائری کر کے جو فیصلہ کرے پوری وکلاء برادری اسے تسلیم کرے گی لیکن اگر اس کسی میں کوئی خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی تو پوری وکلاء برادری دیوار بن کر سامنے گھڑی ہو جائے گی کیونکہ ججز صاحبان بھی اس طرح جوابداہ ہیں جس طرح کوئی عام آدمی آئین اور قانون میں کوئی مقدس گائے نہ ہے۔اس کیس کی آڑ میں کچھ قائدین منتخب وفاقی حکومت کے دیانت دار محب وطن، قابل ترین ڈاکٹر فروغ نسیم وزیر قانون کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کرر ہے ہیں۔ جس پر بطور چیئر مین ایگزیکٹو پنجاب بار کونسل زیر دستخطی ممبران پنجاب بار کونسل سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ایسے تمام دیئے گئے بیانات کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فروغ نسیم نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالا دستی کے لئے عدلیہ کی آزادی کے لئے اور وکلاء کی فلاح کے لئے دن رات کام کیا ہے۔ پنجاب بار کے وکلاء ان کی جمہوریت کی، عدلیہ کی آزادی کی کوششوں اور خصوصا وکلاء کی فلاح کے لئے کئے گئے اقدامات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ا نتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے ان کی ذات پر جس طرح ہرزہ سرائی کی ہے یہ ان کی اپنی وکلاء سیاسی مخالفت کا شاخسانہ محسوس ہوتا ہے یا ان کی ڈاکٹر فروغ نسیم کی ذات کو نقصان پہنچانا ہے۔ میں نے بطور چیئر مین پنجاب بار کونسل ان کو قریب سے دیکھا ہے وہ تماز، روزہ کے پابند، دیانت دار، دن رات محنت کرنے والے ملک کی تاریخ میں پہلے وفاقی وزیر قانون ہیں جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے۔ پاکستان بار کونسل کا وفاقی وزیر ڈاکٹر فروغ نسیم سے استعفیٰ کے مطالبہ سراسر بد دیانتی پر مبنی ہے۔ کیا ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف پاکستان کے وکیل رہے ہیں کیا آرمی چیف کو اپنا وکیل کرنے کا کوئی حق حاصل نہ ہے جس طرح سے میڈیا پر اس بات کو پیش کیا گیا ہے لگتا تو ایسے ہے کہ ڈاکٹر فروغ نسیم نے انڈیا کے چیف آف آرمی سٹاف کی وکالت کی ہے۔ خدا را اپنے اداروں میں تصادم پیدا کر کے اپنی ذاتی انا کی تسکین کی بجائے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کردار ادا کریں۔ اس ملک میں آئین اور قانون کی سر بلندی کے لئے تمام بار کونسل اور بار ایسوی ایشن بنائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر فروغ نسیم ایک فرشتہ صفت انسان ہیں جنہوں نے لاء منسٹری میں کرپشن سفارش، اور اور ذاتی پسند نا پسند کے کلچر کو ختم کیا ہے اور صرف اور صرف میرٹ کوپروان چڑھایا ہے۔ لہذا پنجاب بھر کے وکلاء اس بات کر بھر پور مذمت کرتے ہیں جس میں پاکستان بار کونسل نے اس کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے ہم تمام پاکستان کے وکلاء برادری ڈاکٹر فروغ نسیم وفاقی وزیر قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی فہم و فراست کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایسے اہل، دیانت دار اور محب وطن شخص کو وفاقی وزیر قانون کا قلمدان سونپا ہے۔ پاکستان بار کے ایسے مطالبے اور ایسی خواہش کو ہم گھناؤ نی سازش قرار دیتے ہیں لہذا ہم ایسے کسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ #/s#

Read Previous

تفتان آنے والے تمام افراد سکریننگ کی جائے گی، چیف سیکرٹری بلوچستان

Read Next

اسرائیل کی دمشق اور غزہ پر شدید بمباری، 2 افراد جا ں بحق

%d bloggers like this: