• May 27, 2020

:تازہ ترین خبر

طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟پیپلز پارٹی کے رہنما اورسابق وزیر داخلہ نے کھول کھول کر بیان کر دیا

امریکی ریاستوں میں کرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی

وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایسے علاقے میں ترقیاتی کام کرانے کا اعلان کردیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے

پنجاب لاک ڈاؤن، مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل، پیٹرول پمپس 24 گھنٹے کھلے رہیں‌گے

عمران خان کتنے سال پاکستان کے وزیر اعظم رہیں گے ؟معروف ماہر علم نجوم نے بڑی پیش گوئی کردی ،2یا 5سال کے لئے نہیں بلکہ ۔۔۔

کورونا لاک ڈاؤن ، بھارت میں پھنسے 179 پاکستانی کل وطن واپس پہنچیں گے

آگ نےلاشوں کوبُری طرح مسخ کيا،ساڑھےتين گھنٹےتک شہداء کی لاشيں جائے وقوعہ پرپڑی رہيں جس کی وجہ سے شناخت کےعمل ميں وقت لگ رہاہے۔

سندھ حکومت نے دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا عندیہ دے دیا

مالک مکان کے بیٹے کی 25 سالہ کرایہ دار لڑکی کے ساتھ ایسی درندگی کہ روح کانپ جائے،پولیس نے روایتی کھیل کھیلنا شروع کر دیا

وینٹی لیٹرز کے حوالے سے حالات کنٹرول میں ہیں، جنرل افضل

کیا پب جی پر پابندی لگ سکتی ہے؟ ماہر قانون نے بتا دیا


لاہور :(ھم صفیر نیوز) عدالت نے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈالنے والے مشہور زمانہ ویڈیو گیم ‘پب جی’ پر پابندی لگانے سے متعلق پی ٹی اے کو چھ ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بچوں میں مقبول ترین ویڈیو گیم ان دنوں پب جی ہے اور نا صرف بچے بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی اس پرتشدد گیم کو کھیلتے نظر آتے ہیں جس کے باعث معاشرے میں شدت پسندی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔

بچوں کے دماغی صحت خراب ہونے اور اہل خانہ کے ساتھ وقت نہ گزارنے کے باعث لاہور ہائی کورٹ میں پب جی پر پابندی عائد کرنے کےلیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ گیم کو کھیلنے سے بچوں میں قوت فیصلہ ختم ہوتی جارہی ہے اور ان کے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جو معاشرے کےلیے بھی ٹھیک نہیں ہیں۔

ماہر قانون ایڈوکیٹ بلال ریاض نے ھم صفیر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پب جی گیم کی گرافکس اس طرح سے تیار کی گئیں ہے کہ بچے خود ساختہ طور پر اس کی طرح مائل ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کا رابطہ اپنے اہل خانہ و والدین سے کم ہوجاتا ہے۔

ایڈوکیٹ بلال ریاض کا کہنا تھا کہ اس گیم کا ایک راؤنڈ چالیس منٹ کا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی ذرا سی سستی دکھاتا ہے تو اسے گیم سے آؤٹ ہونا پڑتا ہے اسی لیے بچے زیادہ سے زیادہ وقت اس ویڈیو گیم پر گزارتے ہیں تاکہ جیت سکیں تاہم اس وجہ بچوں کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ یہ گیم اس قدر خطرناک ہے کہ لاہور میں ایک بچہ مذکورہ ویڈیو گیم کی وجہ سے خودکشی بھی کرچکا ہے۔

Read Previous

حریم شاہ ‘حلیمہ سلطان’ کا کردار ادا کرنے کی خواہاں

Read Next

کرونا وائرس، پاکستانی تاریخ میں‌پہلی بار پولیس اہلکاروں کی آن لائن ٹریننگ کا آغاز

%d bloggers like this: