• May 25, 2020

طیارہ حادثے کے 19مسافروں کی شناخت ہوچکی ہے، بقیہ کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی’

کراچی (ھم صفیر نیوز) حکومت سندھ نے کہا ہے کہ پی آئی طیارے حادثہ میں مرنے والے تمام افراد مسافر تھے جن میں سے 19 کی شناخت ہو گئی ہے اور بقیہ کی شناخت ڈی این اے سے کی جائے گی جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے۔

صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ ویاب اور صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز ہونےوالے پی آئی اے طیارے حادثے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔

وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا کہ کُل 97لاشیں مل چکی ہیں جو جہاز میں سوار مسافروں کی ہیں، اس میں 68 مرد ہیں، 26 عورتیں اور تین بچے ہیں۔تحریر جاری ہے‎

انہوں نے بتایا کہ سب کے ڈی این اے سیمپل لیے گئے ہیں اور یہ سیمپل کراچی یونیورسٹی میں حکومت سندھ کی لیبارٹری میں بھیجے گئے ہیں جبکہ 47 لواحقین نے بھی نمونے جمع کیے ہیں تاکہ وہ انہیں ملا کر دیکھ سکیں اور تصدیق کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ 6زخمی ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں جس میں مریض زبیر کا جسم 35فیصد جلا ہے، یہ طیارے میں سوار تھے اور سول ہسپتال کراچی کے برنز وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسافر ظفر مسعود کا فریکچر ہوا اور وہ دارالصحت میں داخل ہیں جبکہ جن گھروں پر جہاز گرا وہ بھی زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں ناہیدہ ہیں جو 49فیصد جلی ہیں، عزیزہ 30فیصد جلی ہیں، ماہرہ 30فیصد جلی ہیں جبکہ الماس طاہر کو انجری ہوئی ہے۔

عذرا پیچوہو نے مزید بتایا کہ جناح ہسپتال میں لائی جانے والی 16لاشوں کی شناخت ہو گئی اور تین لاشوں کی سول ہسپتال میں شناخت ہو گئی ہے، اس طرح مجموعی طور پر 19لاشوں کی شناخت کے بعد انہیں لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بقیہ لاشوں کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا ہے اور ان کے ڈین اے سیمپل لے لیے گئے ہیں جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے جبکہ لواقحقین میں سے 47 نے اپنے ڈی این اے دے دیے ہیں جبکہ بقیہ رشتے داروں سے بھی رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی نے فوری طور پر کمشنر کراچی اور آئی جی سندھ سے رابطہ کیا اور انہیں لوگوں کو ریسکیو اور فوری علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

ترجمان سندھ حکومت نے ریلیف کی سرگرمیوں میں جدوجہد کرنے والے رینجرز، پولیس، ریسکیو اہلکاروں، فائر بریگیڈ اوع سول انتظامیہ سمیت سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی کاوشوں کی بدولت اب تمام مسافروں کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جب صبح وزیر اعلیٰ سندھ نے ظفر مسعود صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جس وقت حادثہ ہوا تو وہ ہوش میں نہی تھے اور لوگوں نے بڑی محنت سے انہیں ملبے سے نکالا۔

انہوں نے کہا کہ ظفر مسعود صاحب ماڈل کالونی کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ ان لوگوں کی محنت کی وجہ سے ان کی زندگی بچ پائی جبکہ اسی طرح محمد زبیر کو بھی ماڈل کالونی کے بہادر عوام نے بڑی محنت سے مدد کی اور آج ان دونوں کی حالت بہتر ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس طیارہ حادثے سے کُل 19 گھر متاثر ہوئے ہیں، ان میں سے دو گھر زیادہ نقصان ہوا ہے جبکہ 17 گھروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے ماڈل کالونی کے جو مقامی افراد متاثر ہوئے ہیں ان کی صحت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے مقامی انتظامیہ اور کمشنر کراچی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ان لوگوں کا خیال رکھا جائے اور متاثرہ گھروں کے افراد کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اس پیشکش کو 16 افراد نے قبول کیا اور اب ایک نجی ہوٹل میں ان کا خیال رکھا جا رہا ہے، ان میں 10 بڑے اور 6 بچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملبے سے 10 گاڑیاں اور 13 موٹر سائیکلیں متاثر ہوئیں اور اس نقصان کا تخمینہ لگا لیا ہے جبکہ جو عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اس کے لیے بھی این ای ڈی یونیورسٹی سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرنے والے تمام افراد طیارے میں سوار مسافر تھے اور مقامی افراد میں سے کسی کا بھی انتقال نہیں ہوا، جن افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں اور گھروں کی مرمت پی آئی ے کی ذمے داری بنتی ہے لیکن اگر پی آئی اے نے یہ کام نہ کیا تو سندھ حکومت یہ تمام چیزیں کر کے دے گی کیونکہ ہم ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور اگر اس مشکل گھڑی میں پی آئی اے ان کا ساتھ نہیں دے گی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے جو ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق یارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی 

Read Previous

بلاول کی پارٹی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ دائر کرنے کی مذمت

Read Next

%d bloggers like this: