• May 25, 2020

جرمنی: مسجد میں جگہ کی قلت پر چرچ نے نمازیوں کیلئے گرجا گھر کے دروازے کھول دیے

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں واقع ایک چرچ کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جگہ فراہم کرنے کے اقدام کو ’مذہبی ہم آہنگی اور یکجتہی‘ کی اعلیٰ مثال کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں کورونا وائرس کے باعث سماجی فاصلہ برقرار رکھنا لازمی ہے۔

مسجد کے اندر 5 فٹ کا سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سے جگہ کی قلت ہوگئی جس کے بعد قریب میں واقع ایک چرچ نے نمازیوں کو فرائض کی ادائیگی کے لیے جگہ فراہم کی۔تحریر جاری ہے‎

خیال رہے کہ جرمنی میں رواں ماہ کے اوائل میں عبادت گاہوں کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

برلن کے ضلع نیوکویلن کی دارالاسلام مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے سیکڑوں نمازی جمع ہوئے تاہم سماجی فاصلے سے متعلق ایس او پیز پر عمل کرنے سے مسجد میں صرف 50 نمازیوں کی جگہ بن سکی۔

جس کے بعد مذہبی ہم آہنگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قریبی مارتھا لوتھرن چرچ نے عربی اور جرمن زبان میں مسلمان نمازوں کی میزبانی کی۔تحریر جاری ہے‎

مسجد کے امام محمد طحہ صابری نے بتایا کہ ’ایسی محافل یکجہتی کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ چرچ کی انتظامیہ نے دیکھا کہ مسجد میں سماجی فاصلے کی وجہ سے نمازی مشکل میں ہیں تو انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ’کیا آپ کو نماز پڑھنے کے لیے جگہ درکار ہے؟’ یہ ان دنوں میں یکجہتی کی حیرت انگیز علامت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وبائی بیماری نے ہمیں ایک کمیونٹی بنا دیا ہے، بحرانوں سے لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔تحریر جاری ہے‎

—فوٹو: رائٹرز

ایک مسلمان نمازی سمیر نے بتایا کہ چرچ کے ماحول میں عبادت کے رجحان میں کچھ وقت لگا۔

انہوں نے کہا کہ موسیقی کے آلات، تصاویر کی وجہ سے یہ ایک عجیب سا احساس تھا لیکن جب آپ چھوٹی چھوٹی چیزیں نظرانداز کریں گے تو یاد آجائے گا کہ آخر یہ خدا کا گھر ہے۔

چرچ کی پادری مونیکا میتھیس نے کہا کہ وہ مسلمان کو عبادت کی طرف راغب کرنے (اذان) سے متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عبادت میں حصہ لیا، میں نے جرمن میں تقریر کی، اور عبادت کے دوران صرف ہاں، ہاں، ہاں کہا کیوںکہ ہم آپ سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں اس طرح محسوس کرنا بہت ہی خوبصورت ہے۔

پادری نے کہا کہ یہ شراکت داری ’کورونا وائرس کے اوقات میں سب سے اچھا کام ہے جس کا فیصلہ کمیونٹی کیا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ہمیں قریب لے آیا، میرے خیال میں ایک دوسرے کو جاننے اور جو کچھ اس وقت میں ہم نے مل کر کیا یہ مضبوطی کا رشتہ ہے

Read Previous

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں شوال کا چاند نظر آگیا

Read Next

طیارہ حادثے پر تعزیت: ’یہ قومیت کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے‘

%d bloggers like this: