• February 18, 2020

دنیا کا سرد ترین شہر جہاں سال میں 270 دن برف جمی رہتی ہے

ماسکو‘نورلسک (ہم صفیر نیوز)شمالی نصف کرہ اس وقت سردی کی لپیٹ میں ہے اور ٹھنڈک کے ساتھ دن کی روشنی کم ہوتی جارہی ہے مگر روس کے شہر نورلسک جیسا موسم عموماً دیگر شہروں میں نظر نہیں آتا، جہاں کے رہائشی جنوری کے وسط تک سورج کی روشنی بھی نہیں دیکھ پاتے اور اسے دنیا کا سرد ترین شہر بھی کہا جاتا ہے۔یہ ان 2 سائبرین شہروں میں سے ایک ہے جو پورا سال منجمد رہتے ہیں اور سردیوں میں یہاں کے ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد رہائشیوں کو اوسطاً منفی 61 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا سامنا ہوتا ہے۔مجموعی طور پر پورے سال کا درجہ حرارت منفی 10 سینٹی گریڈ رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سرد ترین شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ سائبریا کے ایک اور شہر یاکوتسک کا اوسط درجہ حرارت اس سے زیادہ ہے۔پھر برف ہے اور یہ شہر پورا سال 270 دن برف سے ڈھکا رہتا ہے اور ہر 3 میں سے ایک دن یہاں کے رہائشیوں کو برف کے طوفان کا سامنا ہوتا ہے۔یہ شہر دنیا سے بالکل کٹا ہوا ہے، دنیا کا ہر وہ شہر جہاں کی آبادی ایک لاکھ یا اس سے زائد ہوتی ہے، نورلسک انتہائی شمال میں واقع ہے اور بڑے رقبے کے باوجود یہاں کوئی سڑک نہیں جاتی۔یہ شہر ماسکو سے 1800 میل دور واقع ہے اور یہاں پر پہنچنا طیارہ یا کشتی کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہ باقی دنیا سے اتنا الگ ہے کہ یہاں کے رہائشی اکثر روس کو مین لینڈ پکارتے ہیں۔مگر اس سے ہٹ کر اس شہر میں کافی گہماگہمی ہے، پبلک ٹرانسپورٹ، کیفے، آرٹ گیلریاں، ایک بڑا سنیما اور دیگر جدید سہولیات، جبکہ نئے لوگ مسلسل یہاں رہائش کے لیے آتے ہیں، جس کی وجہ اچھی آمدنی ہے۔کیونکہ اس شہر میں پلاٹینیم، نکل اور پالاڈئم کے ذخائر ہیں اور اسے روس کا امیر ترین شہر بھی قرار دیا جاتا ہے۔یہ بہت قیمتی دھاتیں ہیں اور ان کی کان کنی کرنے والوں کی آمدنی بھی بہت اچھی ہے، جبکہ یہاں کا بیشتر حصہ ایک کمپنی کے پاس ہے جس کی آمدنی روس کے مجموعی جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر ہے۔دنیا کے سردترین شہر کے ساتھ ساتھ ان کانوں کی مہربانی سے یہ آلودہ ترین شہروں میں سے بھی ایک ہے، یہاں سبزیاں تو اس کی وجہ سے اگ نہیں پاتیں جبکہ رہائشیوں کو بیریز یا مشروم وغیرہ کھانے سے روکا جاتا ہے جس کی وجہ ان میں زہریلے مواد کی موجودگی ہے۔کان کنی کے نتیجے میں کچھ عرصے قبل یہاں قریب بہنے والے دریا کا پانی بھی سرخ ہوگیا تھا۔ویسے یہاں کے رہنے والے سرد موسم اور آلودگی سے ہٹ کر اسے خوبصورت قرار دیتے ہیں جہاں سے کہیں اور منتقل ہونا انہیں پسند نہیں۔ویسے دنیا کا سرد ترین گاؤں بھی اسے خطے میں ہے جہاں جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے۔یہاں گھروں پر پائپ نہیں لگائے جاتے کیونکہ پانی جمنے سے ان کے پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے، گاڑیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں تاکہ پیٹرول جم نہ جائے۔یہ ہے روس کی ریاست سائبریا میں واقع اویمیاکون، جہاں 2018 کے آغاز میں درجہ حرارت سے آگاہ کرنے والا الیکٹرونک تھرمامیٹر منفی 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پھٹ گیا تھا۔

Read Previous

شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا،سپیکر قومی اسمبلی

Read Next

سعودی عرب خواتین کے معاشی استحکام میں سب سے بڑا معاون

Leave a Reply

%d bloggers like this: