• February 24, 2020

پنجاب حکومت کی جانب سے ماہانہ وظیفے کی بندش، لیگی رکن پنجاب اسمبلی

لاہور (ہم صفیر نیوز) مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی رابعہ فاروقی نے ایک تحریک التواء کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت کی نااہلی اور ماہانہ وظیفے کی بندش کے باعث بھٹوں پر کام کرنے والے 93ہزار بچوں میں سے 50ہزار سے زائد سکول چھوڑ کر دوبارہ والدین کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، پنجاب حکومت نے اپریل 2018سے فی بچہ ماہانہ ایک ہزار کا وظیفہ بند کردیا ہے، اس منصوبے پر اپریل 2018تک 3ارب 40کروڑ کے سرکاری خزانے سے اخراجات ہوچکے ہیں، پنجاب حکومت نے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے 2016میں قانون سازی کے ذریعے اس کو جرم قرار دیا تھا، سابق حکومت نے 93ہزار بچے و بچیوں کا سرکاری سکولوں میں داخلہ کر ایا تھا، ہر سال بچوں کو یونیفارم، بوٹ، جرابیں اور کتابیں و کاپیاں مفت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پنجاب حکومت کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے فنڈز کی فراہمی بند کردی، مفت یونیفارم کی فراہمی بھی معطل ہے،محکمہ سکول ایجوکیشن نے بھی بچوں کی سکولوں میں حاضری کو چیک کرنا بند کردیا اور اس طرح منصوبہ اپنی موت مر رہا ہے۔ بھٹوں پر کام کرنے والے والدین نے بتایا کہ اکثر خاندانوں نے وظیفہ نہ ملنے کی وجہ سے بچوں کو سکولوں سے ہٹا کر کام پر لگالیا وزیر اعلی ٰ نے ابھی تک اس ایشو پر کوئی بریفنگ لی اور نہ ہی بیورکریسی نے زحمت کی کہ وہ اس پر وزیر اعلی ٰسے کوئی ہدایات لیں۔

Read Previous

بلاول جب حکومت مخالف تحریک کااعلان کرتے ہیں نیب نوٹس آجاتا ہے، مصطفی نواز

Read Next

اسپیشل اکنامک زونز میں ٹیکسوں سے ملکی وغیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا

%d bloggers like this: